.

جرمنی اورنیدر لینڈزداعش کے جنگجو،اپنے شہری واپس لینے پر آمادہ : ترکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیر داخلہ سلیمان سوئلو نے کہا ہے کہ جرمنی اور نیدرلینڈز نے اپنے شہری داعش کے جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو واپس لینے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔یہ ڈچ اور جرمن جنگجو اس وقت ترکی میں مختلف حراستی مرکز میں بند ہیں اور ترکی نے اسی ہفتے ان سمیت غیرملکی جنگجوؤں کو ان کے آبائی ممالک کو واپس بھیجنے کا آغاز کیا ہے۔

ترکی نے سوموار کے روز ایک جرمن اور ایک امریکی داعشی کو ان کے آبائی ممالک کو واپس بھیجا تھا اور آیندہ چند روز میں مزید تیئیس غیرملکی جنگجوؤں کو ان کےملکوں میں واپس بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔

ترک وزیر داخلہ سلیمان سوئلو نے بدھ کے روز جنوب مشرقی صوبہ وان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہماری اپنی ایک پالیسی ہے اور ہم اس پر کسی سمجھوتے کے بغیرعمل درآمد کررہے ہیں۔جو ہمارا ہاتھ بٹانا چاہتے ہیں تو بہت اچھا ہے لیکن جو ایسا نہیں کریں گے تو انھیں اس کے مضمرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘

انھوں نے کہا کہ’’میں بالخصوص دو ممالک کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ ان میں ایک جرمنی اور ایک نیدرلینڈز ہے۔انھوں نے گذشتہ رات اس بات کی تصدیق کی تھی کہ وہ اپنے شہری داعش کے دہشت گردوں، ان کی بیویوں اور بچوں کو واپس لے لیں گے۔‘‘

ترکی نے آئیرلینڈ ، جرمنی ، فرانس اور ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے داعش کے زیر حراست جنگجوؤں کو بے دخل کرکے واپس بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ اس پر فرانسیسی وزیر داخلہ کرسٹوفی کیسٹانر نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کا ملک ترکی سے داعش کے گیارہ مشتبہ ارکان کو واپس لے لے گا۔

آئرلینڈ کے وزیر خارجہ سائمن کووینے نے بھی کہا ہے کہ ترکی سے بے دخل کیے جانے والے دو آئرش شہریوں کو اپنے ملک واپسی کا حق حاصل ہے۔

اطلاعات کے مطابق ترکی قریباً ڈھائی ہزار غیرملکی جنگجوؤں کوبے دخل کرکے ان کے آبائی ممالک کے حوالے کرنا چاہتا ہے۔اس وقت ترکی کے تیرہ بے دخلی مراکز میں 813 انتہا پسندوں کو رکھا گیا ہے اور ان کی آبائی ممالک کو حوالگی کے لیے سفری کاغذات کی تکمیل کی جارہی ہے۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس وقت ترکی کی جیلوں میں داعش کے 1,201 قیدی ہیں۔

ترکی نے گذشتہ ماہ شام کے شمالی مشرقی علاقے میں کرد ملیشیا ( وائی پی جی) کے خلاف کارروائی کی تھی۔اس دوران میں کردملیشیا کے زیر قیادت شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) کے زیر انتظام جیلوں سے داعش کے سیکڑوں جنگجوفرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔تاہم ترک فوج نے ان میں سے سیکڑوں کو دوبارہ گرفتار کرلیا تھا۔

شام میں کرد ملیشیا نے داعش کے خلاف امریکی فوج کی معاونت سے لڑائی میں قریباً دس ہزار جنگجوؤں کو گرفتار کیا تھا۔ان میں کا پانچواں حصہ یورپی ممالک سے تعلق رکھتا ہے۔ڈنمارک ، جرمنی اور برطانیہ نے ان میں سے بعض انتہا پسندوں کی شہریت منسوخ کردی ہے اور یہ ممالک انھیں واپس لینے سے انکاری ہیں۔

امریکا کا کہنا ہے کہ شام میں ایس ڈی ایف کے زیر حراست داعش کے قریباً دس ہزار مشتبہ جنگجو بدستور جیلوں یا حراستی مراکز میں ہیں۔تاہم امریکا کے محکمہ خارجہ کے ایک سینیر عہدہ دار نے انھیں ’’ٹک ٹک کرتے ٹائم بم ‘‘ قرار دیا ہے اور انھوں نے ان کے آبائی ممالک پر زوردیا ہے کہ وہ اپنے ان شہریوں کو واپس لیں۔