.

نکی ہیلی نے ٹرمپ کے سابق سازشی ساتھیوں کا پر دہ چاک کردیا

مجھےدو سابق عہدیداروں نے صدر ٹرمپ کے خلاف اکسایا تھا:ہیلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں امریکا کی سابق خاتون سفیر نکی ہیلی نے سابق امریکی انتظامیہ کے متعدد عہدیداروں پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف سازش پراکسانے کا الزام عاید کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک انٹرویو میں مسز ہیلی کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ کےدو سابق عہدیداروں نے اسے صدر ٹرمپ کے خلاف سازش پر اکسایا تھا۔

گذشتہ برس ٹی وی پروگرام 'فیس دی نیشن' میں گفتگو کرتے ہوئے نکی ہیلی نے کہا تھا کہ شام میں اسد رجیم کی مدد کرنے پر ٹرمپ روس پر مزید پابندیاں عاید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاہم وہائٹ ہاؤس نے اس کے بعد ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ فی الحال صدر ٹرمپ کا روس کے خلاف اقتصادی پابندیاں عاید کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ اس پر اقتصادی مشیر لیری کڈلو نے میڈیا کو دیے گئے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہیلی "غیر یقینی یا الجھن کا شکار ہوسکتی ہیں"۔

لیکن بعد میں ہیلی نے فاکس نیوز کو ایک دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ "بہ صدر احترام سے میں واضح کردوں میں الجھن میں نہیں ہوں۔ کیڈلو کو لایعنی بیان دینے پر معافی مانگنی چاہیے'۔

"میں الجھن میں نہیں ہوں"

اس معاملے کی سچائی یہ ہے کہ ٹرمپ نے روس کے خلاف پابندیوں کا معاملہ آگے نہیں بڑھایا مگر اس کے بارے میں وائٹ ہاؤس نے ہیلی کو نہیں بتایا۔ تب اس نے کہا تھا کہ "پورے احترام کے ساتھ عرض ہے کہ میں الجھن میں نہیں ہوں"۔ بعد ازاں نکی ہیلی کے اس جملے کو خواتین کے ذریعہ ان مردوں کو جواب دینے کے لیے استعمال کیا جانے والا نعرہ بن گیا ہے جوخواتین کے مرتبے اور احترام کو کم کرنا چاہتے تھے۔

ایک سال قبل اقوام متحدہ کے فورم پر سفارت کاری کے میدان سے سبکدوش ہونے والی ہیلی نے اپنی یاد داشتوں پرمبنی کتاب شائع کی ہے جس کےعنوان کے لیے انہوں نے ' بہ صد احترام ' کے الفاظ چنے ہیں۔ اپنی اس کتاب میں گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے کے مصداق وائٹ ہائوس کی دیواروں کے پیچھے ہونے والی کئی انکشاف کشاف کہانیوں کا ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ سابق وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن اور وائٹ ہاؤس کے سابق چیف آف اسٹاف جان کیلی نے انہیں صدر کی پالیسیوں کو نقصان پہنچانے مایوسی پھیلانے کے لیے راضی کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان دونوں کے درمیان اختلافات کی وجہ امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے مشرقی بیت المقدس منتقل کرنا اور فلسطینی اتھارٹی کی مالی مدد بند کرناتھا۔

ہیلی نے منگل کو 'دی ٹو ڈے شو' بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہم کیلی کے دفتر گئے اور دو گھنٹے کی لمبی ملاقات کی۔ وہ صدر کو کمزور کرنے کی کوشش نہیں کررہے بلکہ وہ ملک کی حفاظت کو دائو پر لگانا چاہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ انہیں ٹرمپ سے کوئی ذاتی دشمنی تھی بلکہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف تھے"۔

ٹلرسن نے واشنگٹن پوسٹ کے اس الزام کی تردید کی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی بھی صدر کی پالیسیوں کو مجروح نہیں کیا ہے اور ان سے مشاورت میں پیش پیش رہے۔