.

’’سعودی آرامکو کے اثاثوں کا تخمینہ اب بھی 20 کھرب ڈالر ممکن ہے!‘‘

تیل کی قیمت میں اضافے کی صورت میں کمپنی کی آمدن پر دُگنا ، تین گنا اثرات مرتب ہوں گے: محقق بنک الجزیرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اور اس سے باہر چھوٹے سرمایہ کاروں کے اظہار دلچسپی کے پیش نظر سعودی آرامکو کے اثاثوں کی مالیت کا تخمینہ اب ابھی 20 کھرب ڈالر ممکن ہے۔ یہ بات سعودی عرب کے ملکیتی بنک الجزیرہ کے ایک محقق نے العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی ہے۔

سعودی آرامکو نے 2019ء کے پہلے نو ماہ میں 68 ارب ڈالر منافع حاصل کرنے کی اطلاع دی ہے۔اس طرح یہ دنیا میں سب سے منافع بخش کمپنی ہے۔یہ 11 دسمبر کو سعودی اسٹاک مارکیٹ (تداول) میں پہلی مرتبہ اپنے نام کا اندراج کروارہی ہے۔

الجزیرہ بنک کے سرمایہ کاری کے شعبے الجزیرہ کیپٹل میں تحقیق کے سربراہ طلحہ نذر نے سعودی آرامکو کی حالیہ بہتر کارکردگی کے پیش نظر کہا ہے کہ یہ کمپنی اب بھی اپنے اثاثوں کی مالیت کا تخمینہ بیس کھرب ڈالر لگوانے میں کامیاب ہوجائے گی۔انھوں نے آیندہ سال 2020ء میں حصص داران میں 75 ڈالر کے منافع کی تقسیم کا حوالہ دیا ہے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’’کمپنی نے اب تک تو بہت کچھ کر لیا ہے۔ مستقبل میں اس کی بہتر مالی کاکردگی کا انحصارتیل کی قیمتوں پر بھی ہے کیونکہ انھیں اس تمام معاملے میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ سعودی آرامکو سب سے سستا تیل پیدا کرنے والی کمپنی ہے۔ اس لیے تیل کی قیمت میں اضافے کی صورت میں اس کی آمدن پر دُگنا ، تین گنا اثرات مرتب ہوں گے۔‘‘

دبئی سے تعلق رکھنے والی فرم گیٹ کیپٹل کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر منطہر ہلال نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ’’آرامکو کے حصص کی چھوٹے سرمایہ کار بڑی مانگ کررہے ہیں،اسی وجہ سے نصف فی صد حصص ان کے لیے مختص کیے جارہے ہیں۔اگرچہ یہ تھوڑی شرح لگ رہی ہے مگر حقیقی معنوں میں یہ بہت زیادہ ہے۔‘‘

شعبہ بنک کاری کے ذرائع کے مطابق آرامکو ابتدائی طور پر دو فی صد حصص فروخت کرنا چاہتی ہے۔ان میں ڈیڑھ فی صد حصص پیشہ ور سرمایہ کاروں اور اداروں کو فروخت کے لیے پیش کیے جائیں گے۔

سعودی آرامکو نے اپنے حصص کی پہلی مرتبہ مارکیٹ میں فروخت کے لیے گذشتہ اتوار کو 600 صفحات کو محیط پراسپیکٹس جاری کی ہے۔اس کے مطابق ابتدا میں نصف (0.5) فی صد حصص پرچون سرمایہ کاروں کو فروخت کے لیے پیش کیے جائیں گے۔

سعودی حکومت نے بھی حصص کی فروخت کے اعلان کی ابتدا ہی سے کمپنی کے اثاثوں کی مالیت کا تخمینہ بیس کھرب ڈالر لگایا ہے جبکہ تجزیہ کاروں اور سرمایہ کار بنکوں کے مطابق اس کی مالیت دس کھرب بیس ارب ڈالر سے بیس کھرب تیس ارب ڈالر کے درمیان ہوگی۔

آرامکو کا کہنا ہے کہ اداروں اور کارپورٹ سرمایہ کاروں کے لیے حصص کی فروخت کا عمل 17 نومبر سے شروع ہوگا اور یہ چار دسمبر تک جاری رہے گا۔ پرچون سرمایہ کار17نومبر سے 28 نومبر تک حصص خرید کرسکیں گے۔

پراسپیکٹس میں جن نمایاں مالیاتی اداروں کے ذریعے آرامکو کے حصص فروخت کیے جائیں گے،ان کے نام بھی دیے گئے ہیں۔ ان میں جے پی مورگن ، بوفا میرل لینچ ،مورگن اسٹینلے ، الراجحی کیپٹل اور فرسٹ ابوظبی بنک شامل ہیں۔

اس میں حصص کی فروخت کے قواعد وضوابط بھی بیان کیے گئے ہیں اور حصص داران آرامکو کے حصص پہلی مرتبہ خرید کرنے کے بعد 12 مہینے کے عرصے میں انھیں آگے فروخت نہیں کرسکیں گے۔ البتہ وہ کسی غیر ملکی حکومت یا اس سے وابستہ کسی تزویراتی حصص دار کو ان کی فروخت کرسکیں گے۔