.

امریکا اب بھی شامی جمہوری فورسز کا شراکت دار ہے : مارک ایسپر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر کا کہنا ہے کہ شام کے شمال مشرق میں ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے کوبانی سے امریکی فوج کا انخلا مکمل ہونے کے لیے مزید ایک ہفتہ یا اس کے قریب عرصہ لگ سکتا ہے جب کہ امریکی فوج شام میں اپنی فورسز کی از سر نو تعیناتی اور ان میں کمی کر رہی ہے۔

بدھ کے روز ایسپر نے کہا کہ جزوی انخلا کے مکمل ہونے پر شام میں امریکی فوجیوں کی تعداد 1000 سے کم ہو کر 600 کے قریب رہ جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم ابھی تک (کُردوں کے زیر قیادت) شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) کے شراکت دار ہیں اور ان کے لیے مدد پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے"۔ ایسپر نے زور دیا کہ شدت پسند تنظیم داعش کو دوبارہ نمودار ہونے سے روکنے میں ایس ڈی ایف کا اہم کردار ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے نیٹو کے ساتھ ترکی کے بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا "یقینا انقرہ لڑھک کر نیٹو اتحاد سے باہر جا چکا ہے اور ہم اتحاد میں اس کی واپسی چاہتے ہیں"۔

یاد رہے کہ حالیہ عرصے میں ترکی کے یورپ بالخصوص فرانس کے ساتھ تعلقات میں منفی تغیر دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ صورت حال شام کے شمال میں ترکی کے فوجی آپریشن کے حوالے سے فرانس کے تنقیدی لہجے میں اضافے کے ساتھ سامنے آئی۔

جرمنی، ہالینڈ اور فرانس نے گذشتہ ماہ ترکی کے لیے ہتھیاروں کی تمام فروخت معطل کر دینے کا اعلان کیا تھا۔ ان ممالک نے انقرہ کو خبردار کیا تھا کہ شمالی شام میں ترکی کا حملہ یورپ کی سیکورٹی کے لیے خطرہ ہے۔

یورپی یونین نے بھی شمال مشرقی شام میں کردوں پر ترکی کی کاری ضربوں کی مذمت کی تھی۔

فرانس کی وزارت خارجہ نے گذشتہ ماہ (اكتوبر میں) شمالی شام میں کردوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں ترکی کے فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد پیرس میں انقرہ کے سفیر کو طلب کر لیا تھا۔