.

ترکی کے روس سے ایس-400 نظام کے حصول سے سنگین چیلنجز پیدا ہوگئے: ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن پر واضح کیا ہے کہ ان کے ملک کی روس سے میزائل دفاعی نظام ایس-400 کی خریداری سے امریکا کے لیے سنگین چیلنجز پیدا ہوگئے ہیں۔ساتھ ہی انھوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا ہے کہ دونوں نیٹو اتحادی ملک اس تنازع کو حل کر لیں گے۔

صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں بدھ کو مہمان صدر ایردوآن سے اپنی ملاقات کو ’’شاندار اور تعمیری‘‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ترک لیڈر کے ’’بہت گرویدہ‘‘ ہیں۔انھوں نے کانگریس کے بعض ارکان کی ترکی کی شام کے شمال مشرقی علاقے میں امریکا کی اتحادی کرد ملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی کارروائی پر تنقید کے باوجود صدر ایردوآن کا وائٹ ہاؤس میں پُرتپاک خیرمقدم کیا ہے۔

لیکن ان کی اس ملاقات میں شام میں جاری بحران اور روس سے ایس-400 میزائل دفاعی نظام خرید کرنے کے معاملے پر دونوں ملکوں میں پائے جانے والے اختلافات کے خاتمے کے لیے کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ملاقات کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا’’ ترکی کے روس سے ایس-400 ایسے جدید فوجی آلات کے حصول سے ہمارے لیے بعض بڑے سنگین چیلنجز پیدا ہوگئے ہیں اور ہم مستقل طور پر اس سلسلے میں بات چیت کررہے ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا:’’ہم نے آج بھی اس پر بات چیت کی ہے،ہم مستقبل میں بھی اس پر بات کریں گے۔ امید ہے کہ ہم اس صورت حال کو حل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔‘‘

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا:’’ہم نے اپنے اپنے وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیروں سے اس مسئلہ کو فوری طور پر حل کرنے کے لیے کہا ہے۔‘‘

اس نیوز کانفرنس کے چند منٹ کے بعد وائٹ ہاؤس نے ذرا سخت الفاظ میں ایک بیان جاری کیا ہے اور اس میں کہا ہے کہ ’’دوسرے محاذوں پر پیش رفت کے لیے ضروری ہے کہ ہم ترکی کے روس سے ایس-400 فضائی دفاعی نظام کی خریداری سے متعلق امور کو طے کریں اور اپنی دفاعی شراکت داری کو مضبوط بنائیں۔‘‘

ترکی نے امریکا کی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے جولائی میں روس سے اس میزائل دفاعی نظام کوحاصل کرنا شروع کیا تھا۔اس کے ردعمل میں امریکا نے ترکی کو ایف-35 لڑاکا جیٹ کی فروخت پر پابندی عاید کردی تھی اور اس کو ان طیاروں کی تیاری کے کثیر قومی پروگرام سے بھی خارج کردیا تھا۔

ترک صدر ایردوآن نے نیوزکانفرنس میں کہا کہ ’’دونوں ممالک ایس-400 اور لڑاکا جیٹ پر تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرسکتے ہیں اور ہم نے اپنے تعلقات کا ایک نیا باب شروع کرنے سے اتفاق کیا ہے۔‘‘

امریکا کا موقف ہے کہ روسی ساختہ میزائل دفاعی نظام ایس-400 نیٹو کے دفاعی نظام سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا ہے اور اس سے امریکی ساختہ لاک ہیڈ مارٹن ایف-35 لڑاکا جیٹ کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن نے گذشتہ اتوار کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ صدر ٹرمپ ترک ہم منصب سے روس سے میزائل دفاعی نظام کی خریداری کے معاملے پر بات چیت کریں گے اور اگر اس نے روس سے اس نظام کی خریداری جاری رکھی تو پھر اس کو امریکی پابندیوں کے اثرات ضرور محسوس ہوں گے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر نے پہلے ہی ترکی کے خلاف شام میں کرد ملیشیا کے خلاف کارروائی کے ردعمل میں اقتصادی پابندیاں عاید کررکھی ہیں اور اس کی امریکا کے لیے فولاد کی برآمدات پر محاصل میں بھی اضافہ کردیا تھا۔