.

ایران میں ’بد امنی‘ کی اجازت نہیں دی جائے گی: حسن روحانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی نے ملک میں گذشتہ دو روز سے جاری احتجاجی مظاہروں کے بعد خبردار کیا ہے کہ ملک میں بد امنی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انھوں نے اتوار کے روز کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ احتجاج عوام کا حق ہے لیکن احتجاج بلوے سے مختلف ہے۔ہمیں معاشرے میں کسی کو بد امنی کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔‘‘

ہزاروں ایرانی مختلف شہروں میں پیٹرول کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے خلاف پُرتشدد احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔ ایرانی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم تیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

صدرحسن روحانی نے اپنی حکومت کے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے سماجی بہبود پر خرچ کرنے کے لیے رقم حاصل ہوگی۔ان کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ اس کے متبادل اقدامات زیادہ قابل قبول نہیں تھے۔

انھوں نے کہا’’ اس مقصد کے لیے ہمیں یا تو عوام پر ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کرنا چاہیے، مزید تیل برآمد کرنا چاہیے یا زرتلافی کو کم کرنا چاہیے اور آمدن کو وقت ضرورت عوام پر خرچ کرنا چاہیے۔‘‘

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ سال مئی میں 2015ء میں ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا اور نومبر میں ایران کے خلاف دوبارہ سخت اقتصادی پابندیوں عاید کردی تھیں جس کے بعد سے اس کی معیشت زبوں حال ہوچکی ہے اور وہ اب اپنی معیشت کا پہیا چلانے کے لیے تیل کی قیمت میں اضافے سمیت سخت فیصلوں پر مجبور ہے۔