.

ایرانی رجیم اپنے عوام سے خوف زدہ ہے:واشنگٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ ایرانی رجیم اپنے ہی عوام سے خوفزدہ ہے۔ ایرانی حکومت کی طرف سے اپنے ہی عوام پر'غیرملکی ایجنٹ' کا الزام عاید کرنا شرمناک ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان مورگن اورٹاگوس نے واشنگٹن میں 'العربیہ' اس اس کے برادر ٹیلی ویژن چینل ' الحدث' سے بات کرتے ہوئے ایرانی حکومت کے عوام کے خلاف ظالمانہ رویے کی شدید مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت عوام سے خوف زدہ ہے۔ حکومت کی طرف سے عوام پر غیرملکی ایجنٹ ہونے کا الزام عاید کرنا اشتعال انگیز ہے۔

دوسری طرف ایرانی حکومت نے ملک میں سڑکوں پرنکل کراحتجاج کرنے والوں کو'فسادی' قرار دیا اور ان سے سختی سے نمٹنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی حکومت کی خاتون ترجمان نے ایران میں ہونے والے مظاہروں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا حق ہے۔ انہوں نے ایرانی حکومت کو کرپٹ اور ظالم قراردیا۔

اورٹاگوس نے اعلان کیا کہ واشنگٹن ایران کی بدعنوان حکومت کی حالیہ ناانصافیوں پر احتجاج کرنے والے ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔

انہوں نے عوامی احتجاج کے دوران انٹرنیٹ بند کرنے کی کوشش کی بھی مذمت کی اور ایرانی رجیم پر زور دیاکہ وہ عوام کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے پرپابندیوں سے باز رہے۔

امریکی موقف کے جواب میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے کہا کہ ایرانی اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور ان جیسے دوسرے لوگوں کے تعاون سے ہونے والے فسادات ایران کے لیے قابل قبول نہیں۔

انہوں نے کہا ایرانی عوام بخوبی جانتے ہیں کہ یہ منافقانہ یکجہتی ایرانی عوام کے ساتھ محبت اور خلوص کا اظہار نہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے نام نہاد یکجہتی بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کے عوام کو امریکی معاشی دہشت گردی کا سامنا ہے۔

اتوار کے اوائل میں وائٹ ہاؤس کے ایک سینیر عہدیدار نے کہا تھا کہ ان کا ملک ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں چاہتا بلکہ وہ عوامی تحریک کی حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ آج 1979 کے بعد تہران کےپاس آپشن بہت مشکل ہیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران خطے میں برائی کا سبب ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقتصادی دباؤ سیاسی دباؤ بن گیا ہے۔ ایران کے پاس موقع ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ آیا وہ روشن مستقبل چاہتا ہے یا مکمل معاشی تباہی کی راہ پر چلتا ہے۔