.

ایران ’قانونی‘ مظاہروں کا احترام کرے: جرمنی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی نے ایران پر زوردیا ہے کہ وہ ’قانونی‘ مظاہروں کا احترام کرے اور پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کرے۔

جرمن چانسلر اینجیلا میرکل کی خاتون ترجمان اُلرائیک ڈیمر نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’لوگ جب دلیری کے ساتھ اپنے معاشی اور سیاسی تحفظات کا اظہار کررہے ہیں تو ہمیں ان کے جائز حق کو تسلیم کرنا چاہیے جیسا کہ اس وقت ایران میں ہورہا ہے۔‘‘

انھوں نے کہا:’’ ایرانی حکومت کو مظاہروں کا اس انداز میں جواب دینا چاہیے کہ وہ مکالمے کا آغاز کرے۔‘‘

فرانسیسی وزارت خارجہ نے الگ سے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ایران میں رونما ہونے والے واقعات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔ اس نے فرانس کے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ ایران میں اظہار رائے کی آزادی اور پُرامن احتجاج کا احترام کیا جانا چاہیے۔

جرمنی نے اتوار کو ایران میں مقیم اپنے شہریوں کے لیے سفری ہدایت نامہ جاری کیا تھا اور انھیں خبردار کیا تھا کہ وہ مظاہروں یا اجتماعات کی جگہوں پر جانے سے گریز کریں اور کسی اجنبی کے سامنے اپنی سیاسی آراء کا اظہار نہ کریں۔

ایران میں جمعہ سے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے خلاف جاری پُرتشدد احتجاجی مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد چالیس ہوگئی ہے۔ایرانی حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ تک رسائی بند کردی ہے۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نقاب پوش نوجوانوں کو عمارتوں کو نذر آتش کرتے اور سڑکوں پر ٹائر جلاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔عام طور پر سرکاری ٹی وی پر کم ہی اس طرح مظاہروں کی فوٹیج دکھائی جاتی ہے۔

ایرانی حزب اختلاف کی ویب سائٹ ریڈیو فردہ نے سوموار کو انسانی حقوق کی تنظیموں اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز کے حوالے سے نئی ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے جبکہ ایرانی حکام نے ابھی تک صرف تین افراد کی موت کی تصدیق کی ہے۔ تاہم مختلف رپورٹس کے مطابق احتجاجی مظاہروں کے دوران میں جھڑپوں اور ایرانی سکیورٹی فورسز کے تشدد سے ہلاکتوں کی تعداد اس سے 13 گنا زیادہ ہے۔