.

ایران میں پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ،40 ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں جمعہ سے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے خلاف جاری پُرتشدد احتجاجی مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد چالیس ہوگئی ہے۔ایران بھر میں گذشتہ تین روز سے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ تک رسائی بند کردی ہے۔

ایرانی حزب اختلاف کی ویب سائٹ ریڈیو فردہ نے سوموار کو انسانی حقوق کی تنظیموں اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز کے حوالے سے نئی ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے جبکہ ایرانی حکام نے ابھی تک صرف تین افراد کی موت کی تصدیق کی ہے۔ تاہم مختلف رپورٹس کے مطابق احتجاجی مظاہروں کے دوران میں جھڑپوں اور ایرانی سکیورٹی فورسز کے تشدد سے ہلاکتوں کی تعداد اس سے 13 گنا زیادہ ہے۔

کردستان انسانی حقوق نیٹ ورک نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اطلاع دی ہے کہ سکیورٹی فورسز نے جوان رود شہر میں ایک عمارت کی چھت سے مظاہرین پر فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوگئے۔

صوبہ کردستان میں واقع شہر مری وان میں ہفتے کے روز چھے افراد ہلاک ہوئے تھے اور اتوارکو چار افراد مارے گئے تھے۔ اس شہر سےتعلق رکھنے والے ایک صحافی عدنان حسن پور نے سوموار کو ریڈیو فردہ سے گفتگو کرتے ہوئے ان ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔

اس صحافی کے بہ قول جوان رود ، صنعان داج ، کرمان شاہ اور بوکان شہروں میں پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے خلاف احتجاج کا سلسلہ پھیل گیا ہے اور وہاں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔جنوب مغربی صوبہ خوزستان میں گذشتہ تین روز میں 13 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ایرانی حکومت نے گذشتہ جمعہ کو پیٹرول کی قیمت میں 50 فی صد تک اضافہ کردیا تھا اور اس کی راشن بندی کردی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد نقدی سے محروم شہریوں کی مدد کرنا ہے۔ایرانی حکام کے مطابق اس اقدام سے ملک کو سالانہ تین سو کھرب ریال ( دو ارب پچپن کروڑ ڈالر) کی بچت ہوگی۔

ہزاروں ایرانی مختلف شہروں میں پیٹرول کی قیمت میں اس اچانک اضافے کے خلاف پُرتشدد احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔ ایرانی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست فائرنگ کی ہے۔

صدرحسن روحانی نے اپنی حکومت کے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے سماجی بہبود پر خرچ کے لیے رقم حاصل ہوگی۔ان کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ اس کے متبادل اقدامات زیادہ قابل قبول نہیں تھے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ سال مئی میں 2015ء میں ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا اور نومبر میں ایران کے خلاف دوبارہ سخت اقتصادی پابندیوں عاید کردی تھیں جس کے بعد سے اس کی معیشت زبوں حال ہوچکی ہے اور وہ اب اپنی معیشت کا پہیّا چلانے کے لیے تیل کی قیمت میں اضافے ایسے سخت فیصلوں پر مجبور ہے۔