.

بھاری پن کا ذخیرہ 130میٹرک ٹن:ایران کی جوہری سمجھوتے کی ایک اور خلاف ورزی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے تحت جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) نے اپنی نئی رپورٹ میں ایران کی جانب سے چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے کی ایک اور خلاف ورزی کا انکشاف کیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے 130 میٹرک ٹن بھاری پن جمع کر لیا ہے۔اس کو ایران کے تیار کردہ ری ایکٹر میں استعمال کیا گیا ہے۔

ویانا میں قائم آئی اے ای اے نے رکن ممالک کو پیش کی گئی اپنی اس نئی رپورٹ میں بتایا ہے:’’ایران نے 16 نومبر 2019ء کو ایجنسی کو مطلع کیا تھا کہ اس کا بھاری پن کا ذخیرہ 130 میٹرک ٹن سے بڑھ گیا ہے۔‘‘

ایجنسی نے اس سے ایک روز بعد 17 نومبر کو اس امر کی تصدیق کی تھی کہ ’’ایران کا بھاری پن کا پیداواری پلانٹ چالو تھا اور ایران کے پاس بھاری پن کی مقدار 131۰5 میٹرک ٹن ہوچکی تھی۔‘‘

قبل ازیں آئی اے ای اے نے 11 نومبر کو اپنی ایک اور رپورٹ میں بتایا تھا کہ اس کو ایران میں ایک غیرعلانیہ جگہ میں یورینیم کے ذرّات کی موجودگی کا پتا چلا ہے۔ ایران نے پہلے اس جگہ کے بارے میں ایجنسی کو مطلع نہیں کیا تھا۔

آئی اے ای اے نے اس بات کی بھی تصدیق کی تھی کہ ایران نے اپنی زیر زمین فردو تنصیب میں یورینیم کو افزودہ کرنا شروع کردیا ہے۔اس طرح اس نے 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی ایک اور خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔آئی اے ای اے نے اپنی اس سہ ماہی رپورٹ میں مزید بتایا تھا کہ ایران کے پاس افزودہ یورینیم کے ذخائر اور مصفا یورینیم سمجھوتے کی تحدیدات سے زیادہ ہے۔

ایران نے اس ماہ کے اوائل میں فردو میں واقع زیر زمین جوہری پلانٹ میں سینٹری فیوجز میں یورینیم گیس کا دخول شروع کیا تھا۔وہ جوہری سمجھوتے کے تحت سینٹری فیوجز میں گیس داخل نہ کرنے کا پابند ہے۔ سمجھوتے کے تحت ایران یورینیم کو 3۰67 فی صد تک افزودہ کرسکتا ہے لیکن اس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گذشتہ سال مئی میں اس جوہری سمجھوتے سے یک طرفہ طور پر دستبرداری کے بعد کہا تھا کہ وہ بھی اس کا پابند نہیں رہا ہے۔اس کے بعد سے وہ اس سمجھوتے کی شرائط سے مرحلہ وار دستبردار ہورہا ہے۔