.

سیف الاسلام قذافی کے حوالے سے عالمی عدالت انصاف اور لیبیا میں قانونی تنازع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی عدالت انصاف'آئی سی سی' کو مطلوب لیبیا کے سابق مرد آہن مقتول معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کے حوالے سے عالمی عدالت اور لیبی حکومت کے درمیان قانونی تنازع پیدا ہوگیا ہے۔

لیبیا کے عوامی حلقوں اور انسانی حقوق کے گروپوں کی طرف سے یہ توقع کی جا رہی ہے کل ہیگ میں قائم عالمی فوج داری عدالت جلد ہی سیف الاسلام القذافی کے خلاف اپنا فیصلہ صادر کرے گی۔

سیف الاسلام قذافی پراپنے والد کے دور حکومت میں ملک میں پھوٹنے والی بغاوت کچلنے کے دوران انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی فوج داری عدالت نے سیف الاسلام کو اشتہاری قرار دے رکھا ہے۔

لیبیا کی وزارت انصاف نے کہا ہے کہ طرابلس سیف الاسلام قذافی کو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے حوالے کرنے اور لیبیا سے باہر ان پر مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں دے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ لیبیا کی عدلیہ خود بھی آزاد ہے اور کسی بھی شہری کے خلاف قانونی کارروائی اس کے دائرہ اختیار میں ہے۔

سیف الاسلام کے وکلاء دفاع کی طرف سے عالمی عدالت انصاف میں ایک اپیل دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سیف الاسلام کو اشتہاری قرار دینے سے متعلق فیصلہ واپس لیا جائے اور عالمی عدالت سیف الاسلام کی حوالگی کا مطالبہ واپس لے۔ عالمی عدالت اس درخواست پرغور کررہی ہے جب کہ دوسری طرف عدالت نے سیف الاسلام کے خلاف اپنے پہلے سے جاری مقدمہ کے حتمی فیصلے کی تیاری بھی مکمل کرلی ہے۔ یہ فیصلہ عن قریب سنایا جائے گا۔

ایک بیان میں لیبیا کی وزارت انصاف کا کہنا ہے کہ لیبیا کی ریاست کی مطلق خودمختار ہے اور ہماری عدالتیں آزاد ہیں۔ کسی شہری کے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی کے لیے سب سے پہلے لیبیا ہی کی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا جائےگا۔

دوسری طرف عالمی فوج داری عدالت کی طرف سے مسلسل اصرار کیا جا رہا ہے کہ سیف الاسلام کوبین الاقوامی قوانین کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ اس کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے واقعات پر مقدما کوآگے بڑھایا جاسکے۔