.

'عراق سے امریکی انخلاء کے بعد ایران نے 'سی آئی اے' کے ایجنٹوں کو بھرتی کیا'

امریکی اخبار نے عراق میں ایرانی اثر ونفوذ کا بھانڈہ پھوڑ ڈالا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اتوار کے روز ایرانی انٹیلی جنس کی لیک ہونے والی بعض معلومات شائع کی ہیں جن میں عراق میں عراق کے بڑھتے اثر ونفوذ کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ خفیہ معلومات سے پتا چلتا ہے کہ ایران نے 2014ء کے موسم خزاں سے عراق میں اپنا اثر ونفوذ بڑھا دیا تھا۔

امریکی اخبار کے ذریعے سامنے آنے والی ایرانی انٹیلی جنس معلومات پر مبنی دستاویزات سنہ 2014ء اور 2015ء میں ایران کی وزارت انٹیلیجنس اینڈ سیکیورٹی کے افسران نے تحریر کی تھیں۔

اخباری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی جاسوس بغداد ہوائی اڈے پر مستقل طور پر موجود رہے۔ یہ جاسوس بغداد ہوائی اڈے پر امریکی فوجیوں کی آمد ورفت اور 'داعش' سے لڑنے میں مصروف عالمی اتحادی فوج کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتے۔ اس کے علاوہ ایران نے عراق میں صدام حسین کا تختہ الٹے جانے کے بعد بغداد میں اپنے من پسند افراد کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کرنے کے لیے اپنا اثر رسوخ استعمال کیا۔ عراق کے سابق وزیر داخلہ بیان جبران اعلیٰ عراقی حکام میں شامل تھے جن کے ایران کے ساتھ بہت قریبی تعلقات تھے۔

خفیہ دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران نے انٹیلی جنس کے میدان میں کیسے امریکا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ ایران نے عراق سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد 'سی آئی اے' کے سابق عہدیداروں کو جاسوسی کے لیے بھرتی کیا۔ اسی طرح امریکی وزارت خارجہ کے میں بھی ایک عہدیدار بھرتی کیا گیا تاکہ عراق میں واشنگٹن کے منصوبوں کے بارے میں تہران کوبا خبر رکھا جا سکے۔

دستاویزات کے مطابق سابق امریکی صدر باراک اوباما نے عراق میں امریکی فوج کی تجدید کی شرط پر نوری المالکی کا تختہ الٹنے کی حمایت کی تھی۔ مسٹر اوباما کا خیال تھا کہ سُنیوں مکتب فکر کے خلاف نوری المالکی کی ظالمانہ اور جابرانہ پالیسیاں "داعش" کے ظہور کا باعث بنی۔ ان کا ماننا تھا کہ نوری المالکی ایران کی پسندیدہ شخصیت ہیں۔

دستاویزات میں شامی حکومت کو فوجی سپلائی کے لیے عراقی فضائی حدود کے استعمال کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔ دستاویزات کے مطابق عراقی وزیر ٹرانسپورٹ نے اوباما کی جانب سے عراقی فضائیہ کو شام کے لیے استعمال روکنے کی درخواست مسترد کردی۔