.

امریکا نے یہودی بستیوں کو قانونی حیثیت کا حامل تسلیم کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ اُن کا ملک اسرائیلی بستیوں کو "بین الاقوامی قانون کے ساتھ متصادم" شمار نہیں کرتا۔

یہ موقف واشنگٹن کی خارجہ پالیسی میں تغیر کی ترجمانی کر رہا ہے۔

پیر کے روز پومپیو کا کہنا تھا کہ "قانونی بحث کے تمام تر زاویوں کا باریک بینی کے ساتھ جائزہ لینے کے بعد یہ (امریکی) انتظامیہ اس بات پر موافقت رکھتی ہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے شہری بستیوں کا قیام اپنے طور پر بین الاقوامی قانون کی مخالفت نہیں ہے"۔

یاد رہے کہ اب تک امریکی پالیسی کم از کم نظریاتی طور پر 1978 میں امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری قانونی رائے پر اعتماد کر رہی تھی۔ مذکورہ رائے میں یہ مانا گیا تھا کہ فلسطینی اراضی میں یہودی بستیوں کا قیام بین الاقوامی قانون کے ساتھ متصادم ہے۔

دوسری جانب فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو ردینہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بستیوں کے حوالے سے امریکی اقدام مکمل طور پر بین الاقوامی قانون کے مخالف ہے۔

سینئر فلسطینی مذاکرات کار صائب عریقات نے یہودی بستیوں کے حوالے سے امریکی اقدام کو غیر ذمے دارانہ تصرف قرار دیا ہے۔

اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ "اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی قرار دادوں کی خلاف ورزی ہے ،،، اور یہ جامع امن کو یقینی بنانے کے مواقع سبوتاژ کر رہی ہیں۔ ہم ان بستیوں کے حوالے سے امریکی موقف میں تبدیلی کے خطرات اور امن کے قیام کی تمام تر کوششوں پر اس کے اثرات سے خبردار کر رہے ہیں"۔

البتہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے یہودی بستیوں کے حوالے سے امریکی موقف کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فیصلے سے ایک " تاریخی غلطی کی تصحیح" ہو رہی ہے۔ نیتن یاہو نے دگر ممالک پر زور دیا کہ وہ بھی امریکا کے مماثل موقف اپنائیں۔

ادھر بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ بیت المقدس، مغربی کنارے اور غزہ پٹی کا سفر نہ کریں۔