.

شام کے شمال مشرقی علاقے میں روس کے فوجی گشت میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی فوج نے شام کے شمال مشرقی علاقے میں اپنے فوجی گشت میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔روسی فوج اس علاقے میں ترک فوج کے ساتھ مشترکہ گشت کررہی ہے۔

روس کی وزارتِ دفاع کے ترجمان میجر جنرل آئیگور کوناشنکوف نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ فوج شام کے سرحدی علاقے میں ملٹری پولیس کے مزید یونٹوں کو بھیج رہی ہے۔وہ بھی ترک فوج کے ساتھ مل کر مشترکہ گشت کریں گے۔

ترجمان نے ترک وزیر خارجہ مولود شاوش اوغلو کے اس بیان پر سخت ردعمل کا اظہارکیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ روس جنگ بندی سمجھوتے میں اپنے حصے کی شرائط کو پورا نہیں کررہا ہے۔

انھوں نے خبردار کیا تھا کہ ترکی دوبارہ شام میں کردملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔کوناشنکوف نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے صورت حال مزید خراب ہوسکتی ہے۔

روس اور ترکی کے درمیان گذشتہ ماہ سوچی میں شام کے سرحدی علاقے میں جنگ بندی کا ایک سمجھوتا طے پایا تھا۔اس کے تحت انھوں نے کرد ملیشیا کے زیر قیادت فورسز کے سرحدی علاقے سے انخلا سے اتفاق کیا تھا۔

انھوں نے سرحد سے مغرب سے مشرق کی جانب ترکی کی شام میں حالیہ فوجی کارروائی کے دوران میں قبضے میں لیے گئے دس کلومیٹر کے علاقے میں مشترکہ گشت سے اتفاق کیا تھا۔