.

ایرانی حکومت کا انٹرنیٹ کو’’صحیح استعمال‘‘ کی یقین دہانی پر کھولنے کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی حکومت نے انٹرنیٹ کو غلط استعمال نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ کھولنے کا عندیہ دیا ہے۔ حکومت نے ملک میں پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے خلاف حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران میں انٹرنیٹ پر پابندی عاید کررکھی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ مظاہرین اس کا غلط استعمال کررہے تھے۔

ایران میں جمعہ کو پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے اعلان کے بعد سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔اس دوران میں تشدد کے واقعات کی ویڈیوز اور تصاویر انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی ہیں۔اس کے ایک روز بعد ہفتے کو حکومت نے انٹرنیٹ پر قدغنیں عاید کردی تھیں۔

ایرانی حکومت کے ترجمان علی ربیع نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے بہت سے پیشوں اور بنکوں کو مسائل کا سامنا ہے،ہم اس کو حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔‘‘

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی ایسنا کے مطابق ترجمان نے کہا کہ ’’اُن بعض صوبوں میں انٹرنیٹ بتدریج بحال کردیا جائے گا، جہاں یہ یقین دہانی کرادی جائے گی کہ انٹرنیٹ کا غلط استعمال نہیں کیا جائے گا۔‘‘

’’ہم یہ بات سمجھتے ہیں کہ لوگوں کو مشکلات درپیش ہیں لیکن موجودہ صورت حال میں بڑی تشویش کی وجہ یہ ہے کہ ملک میں امن واستحکام کو کیسے بحال رکھا جاسکتا ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا۔

ایرانی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 50 سے 200 فی صد تک اضافہ کیا تھا۔اس اقدام کے خلاف ملک بھر میں پُرتشدد ہنگامے شروع ہوگئے تھے اور نقاب پوش نوجوانوں نے پیٹرول اسٹیشنوں ، بنکوں اور دوسری سرکاری املاک کو نذر آتش کیا ہے جبکہ ایرانی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے بعض شہروں میں براہ راست گولیاں چلائی ہیں۔

حکومت نے ان مظاہروں میں صرف پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور حزب اختلاف کے کارکنان ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتا رہے ہیں۔

لیکن انٹرنیٹ پر پابندی کی وجہ سے مظاہروں کے دوران میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان کی درست تفصیل سامنے نہیں آرہی ہے اور حزب اختلاف کی فراہم کردہ اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔

دنیا بھر میں انٹرنیٹ کی بندش کو مانیٹر کرنے والی ویب سائٹ 'نیٹ بلاکس' کا کہنا ہے کہ ایران میں انٹرنیٹ پر معمول کے مقابلے میں صرف چار فی صد تک رابطہ استوار ہورہا تھا۔اس نے ٹویٹر پر اطلاع دی ہے کہ ایران میں انٹرنیٹ کی بندش کے 65 گھنٹے کے بعد اب آن لائن باقی رہ جانے والے نیٹ ورک بھی بند ہورہے ہیں۔