.

’’ایران میں پُرتشدد مظاہروں میں ملوّث افراد کو پھانسی کی سزا ہوسکتی ہے؟‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر سے وابستہ ایک سخت گیر اخبار نے کہا ہے کہ ملک میں حالیہ پُرتشدد مظاہروں کی قیادت کرنے والے افراد کو پھانسی کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔

اخبار کیہان میں منگل کے روز شائع شدہ ایک مضمون میں حکام کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے ۔البتہ ایرانی حکام نے ابھی تک جمعہ سے جاری احتجاجی مظاہروں میں مرنے والوں کی تفصیل جاری نہیں کی ہے اور انھوں نے صرف پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

اخبار نے لکھا ہے:’’بعض رپورٹس کے مطابق عدلیہ احتجاجی تحریک کے لیڈروں کو سزائے موت سنانے پر غور کررہی ہے۔‘‘ تاہم اخبار نے اپنی اس اطلاع کی مزید وضاحت نہیں کی ہے۔

ایران کے رہبرِاعلیٰ علی خامنہ ای کے ایک نمایندہ حسین شریعت مداری اخبار کیہان کے نگران ہیں۔

ایران کے بعض علاقوں میں منگل کے روز بھی پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات ملی ہیں۔تاہم انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے بیرونی دنیا کے لیے یہ اندازہ کرنا مشکل ہے کہ ان احتجاجی ریلیوں میں شرکاء کی تعداد کتنی تھی یا ان کی شدت کیا رہی ہے؟ کیونکہ مظاہرین اب آن لائن اپنے احتجاج کی ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ نہیں کرسکتے ہیں۔