.

ایران نے حالیہ دنوں میں دشمن کو’’پسپا‘‘ کردیا:علی خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں حالیہ دنوں میں دشمن کو ’’پسپا‘‘ کردیا گیا ہے لیکن انھوں نے اس ’’مفتوح‘‘ دشمن کا براہِ راست نام نہیں کیا ہے۔

ایرانی رہبرِاعلیٰ نے منگل کی شب ایک نشری تقریر میں ملک میں پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے خلاف حالیہ عوامی مظاہروں کے مقابلے میں اپنی اس فتح کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے کہا:’’ہم نے فوجی محاذ پر دشمن کو پسپا کیا ہے اور سیاسی جنگ میں بھی دشمن کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہم نے سکیورٹی کی جنگ میں بھی دشمن کو پیچھے ہٹا دیا ہے۔ملک میں حالیہ بد امنی کسی عوامی تحریک کا نتیجہ نہیں تھی۔‘‘

آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایرانی شہریوں کے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے خلاف احتجاج کو سرے سے یکسر مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ حالیہ اقدامات عوام کی جانب سے نہیں تھے بلکہ یہ سکیورٹی ایشوز تھے۔انھوں نے ایک مرتبہ پھر اپنا یہ جملہ دُہرایا کہ ’’ہم نے دشمن کو پسپا کردیا ہے۔‘‘

ایرانی حکومت نے گذشتہ جمعہ کو پیٹرول کی قیمت میں پچاس سے دو سو فی صد تک اچانک اضافہ کردیا تھا۔اس کے خلاف ایرانیوں نے سڑکوں پر نکل کراحتجاج شروع کردیا تھا اور ملک میں پچاس سے زیادہ شہروں میں پُرتشدد احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے مگر ایرانی حکومت نے ان مظاہروں کی تشہیر روکنے کے لیے انٹرنیٹ کو بند کردیا تھا۔

البتہ ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے پہلی مرتبہ ان احتجاجی مظاہروں کے دوران میں نقاب پوش نوجوانوں کی فوٹیج نشر کی تھی جو سرکاری دفاتر کو نذر آتش کرتے نظر آرہے تھے یا پھر سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہاتھا پائی کررہے تھے۔

اقوام متحدہ نے منگل کے روز ایرانی حکام سے ضبط وتحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی تھی اور پُرتشدد احتجاجی مظاہروں میں دسیوں افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

لندن میں قائم انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران میں ایک سو سے زیادہ مظاہرین کے بارے میں یقین کیا جاتا ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز کی تشدد آمیز کارروائیوں میں مارے گئے ہیں کیونکہ انھیں مظاہرین کو کچلنے کا حکم دیا گیا تھا۔