.

ایرانی پاسداران انقلاب کامظاہرین کے خلاف ’’بروقت کریک ڈاؤن‘‘ پرفوج کوخراجِ تحسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب نے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے خلاف حالیہ ملک گیر احتجاجی مظاہروں پر بروقت قابو پانے پر مسلح افواج کی مدح سرائی کی ہے۔

پاسداران کی سرکاری ویب سائٹ ’سپاہ نیوز ڈاٹ کام‘ پر جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے خلاف ملک بھر میں کم سے کم ایک سو شہروں میں چھوٹے اور بڑے واقعات رونما ہوئے تھے۔‘‘

’’مسلح افواج کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں ان واقعات پر24 گھنٹے سے بھی کم عرصے اور بعض شہروں میں 72 گھنٹے میں قابو پالیا گیا تھا۔فوج نے دو صوبوں تہران اور البرز اور جنوبی شہر شیراز میں بلوائیوں کے لیڈروں کو گرفتار کر لیا ہے۔‘‘بیان میں مزید کہا گیا ہے۔ بعض بیرونی رپورٹس کے مطابق شیراز میں سب سے زیادہ شدید مظاہرے ہوئے ہیں۔

پاسداران انقلاب کے اس بیان سے ایک روز قبل ایرانی صدر حسن روحانی نے ملک میں حالیہ بدامنی کے دوران میں اپنی حکومت کی فتح کا دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ ایران ایک ’’تاریخی امتحان‘‘ میں کامیاب رہا ہے۔ان کا کہنا تھا:’’ایرانی عوام نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ دشمن کو صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی ہرگزاجازت نہیں دیں گے۔اگرچہ کہ انھیں ملک کی انتظامیہ سے شکایات ہیں۔‘‘

صدر روحانی نے غیرملکیوں کو ایران میں حالیہ بد امنی اور احتجاجی مظاہروں کا مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ان کے اس بیان سے قبل سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی یہ کہا کہ ’’ ایران میں دشمن کو پسپا کردیا گیا ہے۔‘‘مگر انھوں نے اس دشمن کا براہ راست ذکر نہیں کیا تھا۔

ایرانی حکومت نے 15 نومبر کو پیٹرول کی قیمت میں 50 سے 200 فی صد تک اضافہ کردیا تھا۔اس اقدام کے خلاف ملک بھر میں پُرتشدد ہنگامے شروع ہوگئے تھے اور بعض شہروں میں نقاب پوش نوجوانوں نے پیٹرول اسٹیشنوں ، بنکوں اور دوسری سرکاری املاک کو نذر آتش کردیا تھا اور ان کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئی تھیں جبکہ ایرانی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے بعض شہروں میں براہ راست گولیاں چلائی ہیں۔

روحانی حکومت نے انٹرنیٹ پر مکمل پابندی عاید کررکھی ہے۔اس لیے یہ اندازہ کرنا مشکل ہے کہ مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے مکمل طور پر ختم ہوگئے ہیں یا ابھی جاری ہیں۔ایران کے سرکاری ٹی وی نے بھی بدھ کے بعد سے مظاہروں یا بد امنی کے واقعات کی کوئی فوٹیج نشر نہیں کی ہے۔اس کے بجائے اس نے مختلف شہروں میں حکومت کے حق میں ریلیوں کی فوٹیج نشر کی ہے۔

حزبِ اختلاف کے ایک نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سکیورٹی فورسز کے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے نتیجے میں 138 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ایرانی کارکنان نے ہلاکتوں کی تعداد 200 تک بتائی ہے۔تاہم ایرانی حکومت کی جانب سے ابھی تک ان احتجاجی مظاہروں میں ہلاکتوں کے سرکاری اعدادوشمار جاری نہیں کیے گئے ہیں۔

انٹرنیٹ پر پابندی کی وجہ سے مظاہروں کے دوران میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان کی درست تفصیل سامنے نہیں آرہی ہے اور حزب اختلاف کی فراہم کردہ اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔

البتہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر سے وابستہ ایک سخت گیر اخبار کیہان نے یہ ضرور اطلاع دی ہے کہ ملک میں حالیہ پُرتشدد مظاہروں کی قیادت کرنے والے افراد کو پھانسی کی سزاہوسکتی ہے۔اخبار نے لکھا ہے:’’بعض رپورٹس کے مطابق عدلیہ احتجاجی تحریک کے لیڈروں کو سزائے موت سنانے پر غور کررہی ہے۔‘‘ تاہم اخبار نے اپنی اس اطلاع کی مزید وضاحت نہیں کی ہے۔