.

ایران بتائے،غیرعلانیہ جگہ پریورینیم کے ذرّات کہاں سے آئے؟آئی اے ای اے کا سوال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے تحت جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) نے ایران سے اس کی ایک غیرعلانیہ جگہ پر پائے جانے والے یورینیم کے ذرّات کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے اور اس سے کہا ہے کہ وہ اس سے متعلق ایشوز کو حل کرے۔

ایجنسی کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل کورنیل فیروٹا نے جمعرات کو ویانا میں بورڈ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ادارے نے ایران کی غیرعلانیہ جگہ میں قدرتی یورینیم کے ذرّات کا پتا چلایا ہے۔ایران نے اس جگہ کے بارے میں پہلے ایجنسی کو مطلع نہیں کیا تھا۔‘‘

انھوں نے کہا:’’ایران کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس مسئلے کو جلد حل کرنے کے لیے ایجنسی کے ساتھ مل کر کام کرے۔‘‘

کورنیل فیروٹا نےایران کی اس جگہ کے نام کا انکشاف نہیں کیا ہے جہاں سے یہ ذرّات ملے ہیں لیکن فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ آئی اے ای اے نے تہران کے علاقے طورقوزآباد میں واقع جگہ کے بارے میں جواب طلب کیا تھا۔اسرائیل ماضی میں ایران پر اس جگہ پر حساس جوہری سرگرمی کا الزام عاید کرچکا ہے۔

آئی اے ای اے میں امریکی سفیر جیکی وولکاٹ نے بورڈ کے اجلاس میں کہا کہ’’یہ ایشوگہری تشویش کا سبب ہے۔ ایران کوئی ایک سال تک اس ایشو کو مناسب انداز میں حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔‘‘یورپی یونین نے بھی ایران پر زوردیا ہے کہ وہ آئی اے ای اے کی تشویش کا فوری طور پر جواب دے۔

آئی اے ای اے نے گذشتہ سوموار کو اپنی ایک رپورٹ میں ایران کی جانب سے چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے کی ایک اور خلاف ورزی کا انکشاف کیا تھا اور کہا تھا کہ اس نے 130 میٹرک ٹن بھاری پن جمع کر لیا ہے۔اس کو ایران کے تیار کردہ ری ایکٹر میں استعمال کیا گیا ہے۔

ایران نے 16 نومبر 2019ء کو ایجنسی کو اس کے بارے میں مطلع کیا تھا اورایجنسی نے اس سے ایک روز بعد 17 نومبر کو اس امر کی تصدیق کی تھی کہ ’’ایران کا بھاری پن کا پیداواری پلانٹ چالو تھا اور ایران کے پاس بھاری پن کی مقدار 131۰5 میٹرک ٹن ہوچکی تھی۔‘‘

قبل ازیں آئی اے ای اے نے 11 نومبر کو اپنی ایک اور رپورٹ میں بتایا تھا کہ اس کو ایران میں ایک غیرعلانیہ جگہ میں یورینیم کے ذرّات کی موجودگی کا پتا چلا ہے۔ادارے نے اس بات کی بھی تصدیق کی تھی کہ ایران نے اپنی زیر زمین فردو تنصیب میں یورینیم کو افزودہ کرنا شروع کردیا ہے۔

اس طرح اس نے 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی ایک اور خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔آئی اے ای اے نے اپنی اس سہ ماہی رپورٹ میں مزید بتایا تھا کہ ایران کے پاس افزودہ یورینیم کے ذخائر اور مصفا یورینیم سمجھوتے کی تحدیدات سے زیادہ ہے۔

ایران نے نومبر کے اوائل میں فردو میں واقع زیر زمین جوہری پلانٹ میں سینٹری فیوجز میں یورینیم گیس کا دخول شروع کیا تھا۔وہ جوہری سمجھوتے کے تحت سینٹری فیوجز میں گیس داخل نہ کرنے کا پابند ہے۔ سمجھوتے کے تحت ایران یورینیم کو 3۰67 فی صد تک افزودہ کرسکتا ہے لیکن اس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گذشتہ سال مئی میں اس جوہری سمجھوتے سے یک طرفہ طور پر دستبرداری کے بعد کہا تھا کہ وہ بھی اس کا پابند نہیں رہا ہے۔اس کے بعد سے وہ اس سمجھوتے کی شرائط سے مرحلہ وار دستبردار ہورہا ہے۔