.

ترکی:انقرہ میں امریکی سفارت خانہ پر فائرنگ کے تین مجرموں کو10 سال تک قید کی سزائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں ایک عدالت نے گذشتہ سال دارالحکومت انقرہ میں امریکی سفارت خانے پر فائرنگ میں ملوّث تین افراد کوقصور وار قرار دے کرتین سے دس سال تک قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو کے مطابق عدالت نے انھیں ایک دہشت گرد تنظیم کی رُکنیت اور ایک غیر ملک کے ساتھ ترکی کے دوطرفہ تعلقات کو سبوتاژ کرنے کی کارروائیوں میں ملوّث ہونے پربھی قصور وار قرار دیا ہے۔

استغاثہ کے مطابق 20 اگست 2018ء کو انقرہ میں ایک کار سے امریکی سفارت خانے پر فائرنگ کی گئی تھی لیکن اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

ایک حملہ آور نے عدالت کو بتایا تھا کہ ’’اس نے یہ ’’احمقانہ کارروائی‘‘ ’’حب الوطنی‘‘اور شراب کے نشے میں چور ہوکر کی تھی۔آپ جو کوئی بھی فیصلہ کریں، ریاست زندہ باد رہنی چاہیے۔‘‘

اس واقعہ کے بعد حکومت نے کہا تھا کہ اس کا مقصد ترکی اور امریکا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو بگاڑنا تھا۔تب دونوں ملکوں کے تعلقات میں کافی کشیدگی پائی جارہی تھی۔

اس وقت امریکا نے ترکی کے خلاف اقتصادی پابندیاں عاید کی تھیں اور اس نے یہ فیصلہ ترکی میں ایک امریکی پادری کوجاسوسی کے جُرم میں قید کی سزا سنائے جانے کے ردعمل میں کیا تھا۔بعد میں ترکی نے اس امریکی پادری کو رہا کردیا تھا۔

اس وقت ترک میڈیا اور عوام میں مختلف امور پر امریکا مخالف جذبات زوروں پر ہیں اور سرکردہ ترک سیاست دان بھی ان جذبات کو ہوا دیتے رہتے ہیں۔بالخصوص امریکی ریاست پنسلوینیا میں مقیم ترک عالم فتح اللہ گولن کو ترکی کے حوالے کرنے سے انکار کے بعد سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں تناؤ پایا جاتا ہے۔ صدررجب طیب ایردوآن نے علامہ گولن کی تحریک پر 2016ء میں اپنے خلاف ناکام بغاوت کے تانے بانے بننے کا الزام عاید کیا تھا۔