.

ریاض معاہدے کے انتظامات پر عمل درامد، اعلی سطح کی عسکری کمیٹی عدن پہنچ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایک سرکاری ذمے دار نے بتایا ہے کہ "ریاض معاہدے" کے سلسلے میں عسکری ضمیمے پر عمل درامد کے کے لیے ایک عسکری کمیٹی عبوری دارالحکومت عدن پہنچ گئی ہے۔

مذکورہ ذریعے کے مطابق اس کمیٹی کی سربراہی جنرل ٹرانسپورٹ کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل امجد خالد القحطانی کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ کمیٹی میں میجر جنرل احمد المسعود، بریگیڈیئر جنرل طارق النسی اور بریگیڈیئر جنرل احمد الظاہری شامل ہیں۔

یہ کمیٹی عرب اتحاد کے زیر نگرانی بھاری اور درمیانے ہتھیاروں کو ہٹا کر عسکری کیمپوں میں منتقل کرنے پر کام کرے گی اور ریاض معاہدے کے تحت اپنی فورسز کو وزارت داخلہ اور وزارت دفاع میں ضم کر دے گی۔

عسکری کمیٹی فوجی یونٹوں کے عدن شہر سے نکلنے کے عمل کی بھی نگرانی کرے گی۔

ریاض معاہدے کے عسکری ضمیمے کی شقوں میں یہ شامل ہے کہ معاہدے پر دستخط کے بعد سے پندرہ روز کے اندر عدن میں تمام عسکری اور سیکورٹی فورسز سے مختلف نوعیت کا بھاری اور درمیانے درجے کا اسلحہ جمع کر کے انہیں عدن کے اندر کیمپوں میں منتقل کر دیا جائے گا۔ اس عمل کی نگرانی عرب اتحاد کرے گا۔

اس کے علاوہ عسکری ضمیمے کے مندرجات میں یہ بھی ہے کہ ریاض معاہدے پر دستخط کے تیس روز کے اندر عدن صوبے میں تمام حکومتی فورسز اور عبوری کونسل کی عسکری تشکیلوں کو صوبے کے باہر عرب اتحاد کے متعین کردہ کیمپوں میں منتقل کیا جائے گا۔

البتہ صدارتی محلوں کی حفاظت اور عبوری کونسل کی قیادت کو سیکورٹی فراہم کرنے پر مامور فرسٹ بریگیڈ اس سے مستثنی ہو گا۔

عسکری ضمیمے کے متن میں عسکری فورسز کو یکجا کرنے اور اسے وزارت دفاع میں ضم کرنے کی شق بھی موجود ہے۔ ریاض معاہدے پر دستخط کے بعد ساٹھ روز کے اندر ان فورسز کو عرب اتحاد کی براہ راست نگرانی میں منظور شدہ منصوبوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔

ضمیمے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ریاض معاہدے پر دستخط کے بعد ساٹھ روز کے اندر ابین اور لحج کے صوبوں میں وزارت دفاع کی قیادت کے تحت عسکری فورسز کی از سر نو تنظیم عمل میں لائی جائے گی۔ عسکری فورسز کی از سر نو تنظیم کا یہ عمل بقیہ جنوبی صوبوں میں بھی پورا کیا جائے گا۔