.

ڈیموکریٹس کا پومپیو سے اسرائیلی بستیوں سے متعلق فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس ارکان ایک پٹیشن پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو "قانونی طور پر جائز قرار دینے" کا فیصلہ واپس لے لیں۔

جمعے کی شام تک اس پٹیشن پر 107 ارکان دستخط کر چکے تھے۔

یہ پٹیشن چار روز قبل امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے بیان کے بعد سامنے آئی ہے۔ پومپیو نے نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو "بین الاقوامی قانون" کی مخالفت شمار نہیں کرتا۔

پومپیو کے اس بیان کی بین الاقوامی سطح پر اور عرب دنیا کی جانب سے مذمت کی گئی۔

پٹیشن پر دستخط کرنے والوں نے امریکی وزارت خارجہ کے فیصلے کو شدت سے مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے متعلق امریکی پالیسی کی کھلی مخالفت ہے جو اب تک نظریاتی طور پر 1978 میں امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری قانونی رائے پر اعتماد کر رہی تھی۔ مذکورہ رائے میں یہ مانا گیا تھا کہ فلسطینی اراضی میں یہودی بستیوں کا قیام بین الاقوامی قانون کے ساتھ متصادم ہے۔

پٹیشن میں میں حوالہ دیا گیا ہے کہ اس فیصلے سمیت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دیگر فیصلوں نے اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان غیر جانب دار وساطت کار کی حیثیت سے امریکی پوزیشن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ساتھ ہی امن عمل کو بھی انتہائی ضرر پہنچا ہے اور امریکا، اسرائیلی اور فلسطینی عوام کی سیکورٹی کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔

پٹیشن کے مطابق اسرائیلی بستیوں کے حوالے سے پومپیو کے اعلان نے دو ریاستی حل کو ناقابل عمل بنا دیا ہے جس سے یہودی عوام کے لیے بطور ایک محفوظ اور جمہوری وطن اسرائیل کا مستقبل خطرے سے دوچار ہو گیا ہے۔

پٹیشن میں توجہ دلائی گئی ہے کہ وزارت خارجہ کا یہ فیصلہ واضح طور پر جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 49 کو نظرانداز کر رہا ہے۔ یہ آرٹیکل باور کراتا ہے کہ کوئی بھی قابض طاقت اپنی شہری آبادی کا کوئی حصہ ،،، قبضے میں لی گئی اراضی میں منتقل نہیں کرے گا۔

پٹیشن کے مطابق اس فیصلے سے دنیا کو یہ پیغام جاتا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی نظر میں انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کا کوئی احترام باقی نہیں رہا ،،، لہذا ہم 21 ویں صدی میں امریکیوں اور اسرائیلی عوام سمیت اپنے حلیفوں کے لیے زیادہ انارکی اور وحشیانہ پن کی توقع کر سکتے ہیں۔

عالمی برادری کی واضح اکثریت اسرائیلی بستیوں کو غیر قانونی شمار کرتی ہے۔

اسرائیلی اور فلسطینی رپورٹوں کے اندازوں کے مطابق مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں 164 اسرائیلی بستیوں میں تقریبا 6.5 لاکھ یہودی آباد کار سکونت پذیر ہیں۔