.

’’ایرانی پولیس نے فوج اور پاسداران کی مدد سے’’امریکی ایجنٹوں‘‘کی بدامنی پرقابو پالیا‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے بعض اعلیٰ عہدے داروں نے کہا ہے کہ مغربی صوبہ کرمان شاہ اور دوسرے علاقوں میں فوج اور پاسداران انقلاب کے اہلکاروں نے پُرتشدد مظاہروں پر قابو پانے میں پولیس کی مدد کی ہے۔انھوں نے مظاہرین کی صفوں میں ’’امریکی ایجنٹوں‘‘ کے درآنے کا الزام عاید کیا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق کرمان شاہ میں پیٹرول کی قیمت کے خلاف حالیہ احتجاجی مظاہروں میں تیس افراد ہلاک ہوگئے تھے اور اس صوبے میں سب سے زیادہ بد امنی دیکھنے میں آئی تھی۔ایران کے دوسرے شہروں اور قصبوں میں پُرتشدد احتجاج کے دوران میں ایک سو سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن ایرانی حکام نے اس تعداد کو قیاس آرائی اور مبالغہ آمیز قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی فارس کے مطابق کرمان شاہ میں عدلیہ کے سربراہ پرویز توسل زادہ نے کہا ہے کہ ’’پاسداران انقلاب کی تمام فورسز ، باسیج ملیشیا ، سراغرسانی کی وزارت ، پولیس اور فوج نے صورت حال پر قابو پانے میں فعال انداز میں حصہ لیا ہے۔‘‘

انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ’’ مظاہرین مسلح تھے ،انھوں نے ایجنٹوں سے لڑائی کی اور سرکاری املاک کو نذرآتش کیا۔‘‘

کرمان شاہ میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر بہمن ریحانی نے بھی یہ دعویٰ کیا ہے کہ ’’مظاہرین ردِ انقلاب گروپوں (جلا وطن حزب اختلاف) اور امریکا کی انٹیلی جنس سروسز سے تعلق رکھتے تھے۔‘‘مگر انھوں نے ان گروپوں کا نام نہیں لیا ہے۔

ایرانی حکام قبل ازیں جلاوطن گروپوں اور ملک دشمن قوتوں سے وابستہ ’’ٹھگوں‘‘ پر ملک میں بد امنی کا الزام عاید کرتے رہے ہیں۔ان حالیہ احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں قریباً ایک ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

سپاہِ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمت کے خلاف احتجاجی تحریک پر جمعرات تک قابو پالیا گیا تھا اور اب صورت حال پُرامن ہوچکی ہے۔ پاسداران کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل رمضان شریف نے سابق شاہِ ایران کے حامیوں اور جلاوطن حزب اختلاف کے مسلح گروپ مجاہدینِ خلق پران مظاہروں اور توڑ پھوڑ کا الزام عاید کیا ہے۔

انھوں نے ایک بیان میں ایران کے علاحدگی پسند گروپوں پر بھی ان احتجاجی مظاہروں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’امریکا ، سعودی عرب ،اسرائیل اور ان کے خفیہ اداروں نے ملک میں حالیہ بدامنی کو ہوا دینے میں مدد دی تھی۔‘‘

ان کے اس بیان سے قبل صدر حسن روحانی نے بھی غیرملکیوں کو ایران میں حالیہ بد امنی اور احتجاجی مظاہروں کا ذمے دار قرار دیا تھا اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ’’ ایران میں دشمن کو پسپا کردیا گیا ہے۔‘‘مگر انھوں نے اس دشمن کا براہ راست ذکر نہیں کیا تھا۔

ایرانی حکومت نے 15 نومبر کو پیٹرول کی قیمت میں 50 سے 200 فی صد تک اچانک اضافہ کردیا تھا۔اس اقدام کے خلاف ملک بھر میں پُرتشدد ہنگامے شروع ہوگئے تھے اور بعض شہروں میں نقاب پوش نوجوانوں نے پیٹرول اسٹیشنوں ، بنکوں اور دوسری سرکاری املاک کو نذر آتش کردیا تھا اور ان کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئی تھیں۔

ایرانی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے بعض شہروں میں براہ راست فائرنگ بھی کی تھی۔روحانی حکومت نے انٹرنیٹ پر مکمل پابندی عاید کردی تھی جس کی وجہ سے مظاہروں میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان کی حقیقی تصویر سامنے نہیں آئی ہے۔