.

سعودی عرب نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں پرامریکا کا مؤقف مسترد کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی قائم کردہ یہودی بستیوں کے بارے میں امریکا کے نئے موقف کو ایک مرتبہ پھر مسترد کردیا ہے۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس میں مملکت کے اس موقف کا اعادہ کیا ہے۔عرب وزرائے خارجہ نے امریکا کے یہودی بستیوں کے بارے میں نئے موقف سے پیدا ہونے والی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

شہزادہ فرحان نے کہا کہ فلسطینی ایشو شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے دل کے قریب ہے اور مملکت کی جانب سے فلسطینیوں کی ان کے حقوق کی بازیابی تک حمایت جاری رکھی جائے گی۔

انھوں نے فلسطینی تنازع کے جامع حل کی ضرورت پر زوردیا اور کہا ہے کہ فلسطینی تنازع کا حل مشرقِ وسطیٰ میں جامع اور پائیدارامن کے قیام کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

سعودی عرب نے قبل ازیں گذشتہ بدھ کو ایک بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی یہودی آبادکاروں کو بسانے کے لیے قائم کردہ بستیوں سے متعلق نیا مؤقف یکسر مسترد کردیا تھا۔ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امریکا غربِ اردن میں ان بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی نہیں سمجھتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے گذشتہ سوموار کو محکمہ خارجہ میں ایک تقریر میں کہا تھا:’’ٹرمپ انتظامیہ تمام جانب سے قانونی مباحث کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ غربِ اردن میں قائم اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون سے متصادم نہیں ہیں۔‘‘

امریکا نے اس طرح فلسطینی اراضی پر یہودی آبادکاروں کی بستیوں کے بارے میں گذشتہ چارعشروں سے اختیار کردہ مؤقف سے انحراف کیا ہے۔پہلے امریکا یہ کہتا رہا ہے کہ یہ یہودی بستیاں بین الاقوامی قانون سے کوئی مطابقت نہیں رکھتی ہیں۔امریکا کی غربِ اردن میں یہودی بستیوں کے بارے میں اب تک کی پالیسی 1978ء میں محکمہ خارجہ کی قانونی رائے پر مبنی تھی۔اس نے فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے منافی قراردیا تھا۔

عرب لیگ نے مائیک پومپیو کے اس بیان کی مذمت کی ہے اور اس کو ایک بہت ہی منفی پیش رفت قرار دیا ہے۔تنظیم کے سیکریٹری جنرل احمد ابو الغیط نے ایک بیان میں کہا کہ ’’امریکا کے اس فیصلے کے نتیجے میں مقبوضہ فلسطینی علاقے میں تشدد میں اضافہ ہوگا اور فلسطینیوں کو اسرائیلی آبادکاروں کے ہاتھوں مزید ظالمانہ سلوک کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس سے امن کے قیام کے امکانات مزید معدوم ہوجائیں گے۔‘‘