.

قطراورکویت کا امریکا کی قیادت میں بحری اتحاد میں شمولیت کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر اور کویت نے امریکا کی قیادت میں خلیج عرب میں بین الاقوامی جہازرانی کے تحفظ کے لیے قائم بحری اتحاد میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔

اس بحری اتحاد کے چیف آف اسٹاف امریکی فوج کے کرنل جان کونکلین نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں منعقدہ مکالمے میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ’’قطراور کویت نے پہلے ہی ہمیں اتحاد میں شمولیت کے بارے میں آگاہ کردیا ہے،اس لیےاب یہ وقت کا معاملہ رہ گیا ہے۔‘‘

بحرین میں امریکا کی قیادت میں میری ٹائم سکیورٹی فورس اس سال موسم گرما میں خطے میں تجارتی بحری جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد قائم کی گئی تھی۔ ان حملوں کا ایران پر الزام عاید کیا گیا تھا۔

اس فورس کا مقصد تجارتی بحری جہازوں کا تحفظ اور آبنائے ہُرمز ، باب المندب ، خلیج عُمان اور خلیج عرب میں جہاز رانی اور بین الاقوامی تجارت کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔امریکا کی قیادت میں اس بحری فورس میں بحرین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں۔

قبل ازیں بحرین کے قومی سلامتی کے مشیر اور شاہی محافظ دستے کے کمانڈر میجر جنرل شیخ ناصر بن حمد آل خلیفہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک خطے میں ایران کے خلاف ’’پہلی خندق‘‘ ہے۔

انھوں نے یہ بات بحرینی دارالحکومت میں منعقدہ منامہ بین الاقوامی میری ٹائم سکیورٹی کنسٹرکٹ (آئی ایم ایس سی) مکالمے کے موقع پر العربیہ سے انٹرویو میں کہی ہے۔ان کا اشارہ امریکا کی قیادت میں آئی ایم ایس سی میں بحرین کے کردار کی جانب تھا۔

شیخ ناصر نے کہا کہ ’’اس اتحاد کے ذریعے ہم نے خطے میں دنیا کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے اور ہم معمول کے مطابق کاروبار جاری رکھیں گے۔‘‘

دریں اثناء امریکا کی مرکزی کمان کے سربراہ جنرل کینتھ میکنزی نے امریکی افواج کی میزبانی پر بحرین کا شکریہ ادا کیا ہے۔انھوں نے ہفتے کے روز ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’بحرین استحکام کا ایک جزیرہ ہے۔ہم ہمیشہ اس کو اہمیت دیتے ہیں۔‘‘

جنرل میکنزی نے کہا کہ ایران حالیہ مہینوں کے دوران میں جہازرانی کی سلامتی کے لیے بنیادی خطرہ رہا ہے اور میری ٹائم سکیورٹی کنسٹرکٹ تہران کے بُرے اقدامات کو ناکام بنانے میں کامیاب رہا ہے۔

انھوں نے منامہ ڈائیلاگ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر ایران نے بحری جہازوں کو قبضے میں نہیں لیا ہوتا تو پھر آئی ایم ایس سی کی ضرورت بھی پیش نہ آتی لیکن اس کے فعال ہونے کے بعد سے ایسا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔‘‘