.

استنبول میں ایرانی شہری کے قتل کے الزام میں پانچ مشتبہ افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک پولیس نے ملک کے سب سے بڑے شہر استنبول میں ایک ایرانی شہری کے قتل کے الزام میں پانچ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ترک میڈیا کے مطابق مقتول مسعود مولوی ایرانی حزبِ اختلاف سے تعلق رکھتا تھا اور روحانی حکومت کا مخالف تھا۔

استنبول کے وسطی علاقے سسلی ( صقلیہ) میں 14 نومبر کو ایک کار میں سوار افراد نے مسعود مولوی کو گولیوں سے چھلنی کیا تھا اور وہ پھر دم توڑ گئے تھے۔

ترک نشریاتی ادارے خبر ترک کے مطابق مسعود مولوی ایرانی انٹیلی جنس کا سابق ملازم تھا لیکن بعد میں وہ منحرف ہوکر ایرانی حکومت کا مخالف ہوگیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے بدھ کو پانچ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے، ان میں وہ مبیّنہ قاتل بھی شامل ہے جس نے مقتول پر گولیاں چلائی تھیں۔دوسرے چاروں مشتبہ افراد نے اس مسلح شخص کی قتل کی اس واردات میں معاونت کی تھی۔انھوں نے اس کو واقعے میں استعمال کیا گیا ہتھیار مہیا کیا تھا اور پھر اس کو قانون نافذ کرنے والے اداروں سے چھپنے میں مدد دی تھی۔