.

بشار حکومت نے کیمیائی ہتھیاروں کے ذریعے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا : امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ شام میں بشار حکومت کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کر کے جنگی جرائم کی مرتکب ہوئی۔

یہ بات بین الاقوامی سطح پر کیمیائی جنگ کا شکار ہونے والے افراد کی یاد میں جاری ایک بیان میں کہی گئی۔

بیان کے مطابق "کیمیائی مواد کا بطور ہتھیار استعمال ہماری جدید تاریخ میں خوف ناک ہلاکتوں اور زخمی حالتوں کا سبب بن رہا ہے"۔

وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکا کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری اور ان کے استعمال پر مکمل پابندی کی تائید کرتا ہے ... اور کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق معاہدے پر پوری طرح عمل درامد پر زور دیتا ہے۔ بیان کے مطابق امریکا کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کے لیے کام کرنے والی تنظیم (OPCW) کو سپورٹ کرتا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹاگوس کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر جاری بیان میں وزارت کا کہنا ہے کہ "افسوس کی بات ہے کہ دنیا میں ایسی جگہائیں ہیں جہاں بنا کسی سرزنش کے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال جاری ہے"۔

بیان کے مطابق "شام کے 2013 میں کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کے معاہدے میں شمولیت کے بعد سے بشار الاسد کی جانب سے ہر سال کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکا نے کچھ عرصہ قبل اس بات کے شواہد پیش کیے تھے کہ بشار حکومت نے الغوطہ کے علاقے میں مئی 2019 میں کلورین گیس اور اگست 2013 میں سیرین گیس کا بطور ہتھیار استعمال کیا۔ اس کے نتیجے میں 1400 سے زیادہ شہری ہلاک ہوئے۔ بشار الاسد ایسے مظالم کا ذمے دار ہے جن کوئی شمار نہیں۔ ان میں بعض کارروائیاں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی سطح تک پہنچ گئے۔ ان ہی میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بھی شامل ہے"

بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ بشار حکومت اس ممنوعہ ہتھیار کا استعمال روک دے۔

امریکا نے کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی سے متعلق تنظیم کی جانب سے شام میں جاری کام کو سراہا گیا۔ بالخصوص تنظیم کے محققین جو شام میں مذکورہ ہتھیاروں کے استعمال کے ذمے دار عناصر کے انکشاف کے لیے کام کر رہے ہیں۔

امریکا نے تمام ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کے معاہدے کو نافذ کریں اور ان ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال کرنے والوں کا احتساب کریں۔