.

ترکی پر نیٹو کے مفادات کا احترام لازم ہے : امریکی وزیر دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ بالٹک کے ممالک اور پولینڈ کے لیے نیٹو اتحاد کے دفاعی منصوبے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کا سلسلہ روک دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انقرہ اس امر کو شام میں امریکی حمایت یافتہ کرد فورسز کے خلاف اپنے فوجی آپریشن کی اُس سپورٹ کے ساتھ مشروط نہ کرے جس کے واسطے ترکی مسلسل نیٹو اتحاد پر دباؤ ڈال رہا ہے۔

نیٹو کے سربراہ اجلاس سے قبل پیر کے روز رائٹرز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ایسپر نے خبردار کیا کہ "انہیں (ترکی کو) جو خطرات محسوس ہو رہے ہیں وہ کسی (نیٹو اتحاد کے رکن ممالک) کو بھی نظر نہیں آ رہے"۔ انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان تعلقات پر طاری جمود توڑنے کے لیے "کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس" (تنظیم) کو دہشت گرد قرار دینے کے ترکی کے موقف کی حمایت نہیں کی جائے گی۔

امریکی وزیر دفاع نے انقرہ پر زور دیا کہ وہ نیٹو اتحاد کو درپیش بڑے چیلنجوں پر توجہ مرکوز کرے۔

لندن میں سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے روانہ ہونے کے دوران ایسپر کا کہنا تھا کہ نیٹو اتحاد کی تیاری اور صفوں میں یک جہتی کا مطلب بڑے معاملات پر توجہ دینا ہے بالخصوص سب سے بڑا معاملہ نیٹو اتحاد کی ہمہ وقت استعداد ہے۔

نیٹو اتحاد کے نمائندوں کو سرکاری طور پر تمام 29 رکن ممالک کی موافقت درکار ہے تا کہ روس کی جانب سے کسی بھی خطرے کے خلاف پولینڈ، لیٹوینیا، لیٹیویا اور اسٹونیا کے دفاع کی بہتری کے منصوبے پر عمل درامد کیا جا سکے۔

ایک جانب نیٹو اتحاد کے قیام کے 70 برس پورے ہونے پر اتحاد کے سربراہ اجلاس کی تیاری ہو رہی ہے تو دوسری جانب انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان اختلافات کی خلیج گہری ہو چکی ہے۔ ان اختلافات کی بنیادی وجہ شام میں فوجی آپریشن کی صورت میں جارحیت اور روس کے ساتھ ترکی کے دفاعی تعلق کا پروان چڑھنا ہے۔

ترکی کا نیٹو سے مطالبہ ہے کہ امریکی نواز تنظیم کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کو دہشت گرد جماعت قرار دیا جائے۔ اس تنظیم کا مرکزی جزو سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) ہے۔ ترکی نیٹو اتحاد کے رکن ممالک کی جانب سے اس تنظیم کو سپورٹ کیے جانے پر برہم ہے۔