.

فرانسیسی صدر کا ترکی پرشام میں داعشں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں نے ترکی کی مسلح افواج پر شام کے شمال مشرقی علاقے میں کرد ملیشیا کے خلاف آپریشن کے دوران میں داعش کے جنگجوؤں کے ساتھ ’’بعض اوقات گٹھ جوڑ‘‘ کا الزام عاید کیا ہے۔

انھوں نے لندن میں منگل کے روز نیٹو کے سربراہ اجلاس کے موقع پرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا:’’ میں جب ترکی کی طرف دیکھتا ہوں، وہ اب ان کے خلاف لڑرہا ہے جو ہمارے ساتھ مل کر لڑتے رہے ہیں اور وہ (ترک) بعض اوقات داعش کے گماشتوں کے ساتھ مل کر کام کرتے رہے ہیں۔‘‘

عمانوایل ماکروں آج لندن میں نیٹو کے سربراہ اجلاس کے موقع پر ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے بھی ملاقات کرنے والے ہیں۔انھوں نے کہا کہ وہ نیٹو کے بارے میں اپنے گذشتہ ماہ کے بیان پر قائم ہیں۔انھوں نے نیٹو اتحاد پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی تزویراتی طور پر ’’دماغی موت‘‘ واقع ہوچکی ہے۔

ان کی اس گفتگو سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لندن ہی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نیٹو کے بارے میں ماکروں کے اس تنقیدی بیان کو توہین آمیز قرار دیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’’وہ دیکھتے ہیں،فرانس کیسے نیٹو سے اپنا ناتا توڑتا ہے۔ اگرایسا ہوتا ہے تو یہ ایک حیرت انگیزامر ہوگا کیونکہ فرانس کو کسی اور ملک سے زیادہ تحفظ کی ضرورت ہے۔‘‘

انھوں نے کہا:’’ میں فرانسیسی صدر سے ملاقات کرنے والا ہوں اور انھیں یہ باور کراؤں گا کہ انھیں کسی بھی اور شخص سے زیادہ تحفظ کی ضرورت ہے مگر میں انھیں تعلق توڑتا ہوا دیکھ رہاہوں، اس لیے مجھے کوئی زیادہ حیرت نہیں ہوئی ہے۔‘‘