.

لیبی فوج کا تُرکی کےعزائم کے خلاف سلامتی کونسل سے مداخلت کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی فوج نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ لیبیا میں ترکی کے عزائم کا مقابلہ کرنے کے لیے مداخلت کرے۔

لیبیا کی فوج نے پیرکو ایک بیان میں کہا کہ ترکی لیبیا کے عوام کے مفادات کے لیے خطرہ بننے والا ملک بن گیا ہے۔

لیبیا کی پارلیمنٹ کے اسپیکر عقیلہ صالح نے پیر کے روز اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں انہوں نے لیبیا کی قومی وفاق حکومت کے سربراہ فائز السراج اور ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے درمیان دفاع معاہدے پر انی تشویش کا اظہا کیا ہے۔

عقیلہ صالح کا کہنا تھا کہ اردوآن اور فائزالسراج کے مابین دفاعی معاہدہ لیبیا کی ریاست اور اس کے مستقبل اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

ترکی اور فائز السراج کےدرمیان معاہدے اور اس کے مضمرات کے بارے میں عقیلہ صالح نے عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط کو بھی ایک مکتوب میں آگاہ کیا ہے۔

ایک بیان میں لیبیا کی فوج نے انقرہ پر طرابلس میں ملیشیاؤں اور دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرنے کا الزام عاید کیا۔

فوج نے کہا کہ ترک صدراردوآن معاہدے کے ذریعے آخری سانسیں لینے والی سراج حکومت کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔

فوج کا کہنا ہے کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ فائز السراج کی حکومت کو کسی دوسرے ملک سے معاہدے کا کوئی حق نہیں مگر ترک صدر کےساتھ کیا گیا معاہدہ 'باطل' ہے۔

خیال رہے کہ نومبر میں لیبیا کی قومی وفاق حکومت کے سربراہ فائز السراج اور ترکی کے درمیان ایک دفاعی معاہدے کی منظوری دی گئی تھی۔ اس معاہدے کے تحت ترکی السراج حکومت کو لیبی فوج کے آپریشن کے خلاف مدد کے لیے اسلحہ اور جنگی سازوسامان فراہم کرے گا۔