.

آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر یورینیم کے ذرات کے حوالے سے ایران کے جواب کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے زیر انتظام ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے نئے سربراہ کا کہنا ہے کہ ایجنسی کو ابھی تک تہران کے نزدیک ایک مقام پر یورینیم کے ذرات کے انکشاف سے متعلق ایران سے مطلوب معلومات نہیں ملیں۔ واضح رہے کہ ایران نے اس مقام کے بارے میں ایجنسی کو آگاہ نہیں کیا تھا۔

آئی اے ای اے کے نئے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی نے منگل کے روز اپنی ذمے داری سنبھالی ہے۔ وہ چار برس تک اس عہدے پر فائر رہیں گے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں گروسی کا کہنا تھا کہ نومبر میں اس مقام کے بارے میں اعلان کے بعد سے آئی اے ای اے اور ایران کے درمیان یہ موضوع زیر بحث ہے۔ گروسی کے مطابق اس سلسلے میں ابھی تک اطمینان بخش جواب موصول نہیں ہوا تاہم بات چیت کا سلسلہ جاری رہے۔

یاد رہے کہ آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں نے ایران میں اُس ٹھکانے پر یورینیم کے ذرات کا انکشاف کیا تھا جس کی جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پہلے ہی اشارہ کر چکے ہیں۔ نیتن یاہو نے اس ٹھکانے کو "خفیہ ایٹمی ڈپو "قرار دیا تھا۔

ایران کا دعوی ہے کہ مذکورہ ٹھکانے پر یورینیم کے ذرات پائے گئے تاہم انہیں افزودہ نہیں کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں تفصیلی وضاحت پیش کرنے کے حوالے سے ایران کو دی جانے والی ممکنہ مدت سے متعلق سوال پر گروسی نے کہا کہ "حتمی تاریخ وضع کرنا شاید کوئی مثالی خیال نہیں ہو ... ہمیں مل کر کام کرنا چاہیے ، یقینا وقت ایک مرکزی عامل کی حیثیت رکھتا ہے"۔

گروسی 2010 سے 2013 تک آئی اے ای اے میں ایک سینئر ذمے دار رہے۔ اس دوران انہوں نے جوہری معاملات سے متعلق سفارت کاری کے میدان میں کام کیا۔ وہ ایران کے حوالے سے مرکزی فیصلہ سازوں میں جانے جاتے ہیں۔ تاہم اختیارات سنبھالنے کے بعد ان کی سینئر ایرانی ذمے داران کے ساتھ ملاقات نہیں ہوئی ہے۔

گروسی کے مطابق "میں آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر نیا آدمی ہوں۔ اب ایرانیوں کے ساتھ نیا شراکت دار ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اکٹھے بیٹھ کر بات چیت کا آغاز کریں"۔

آئی اے ای اے کے نئے ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ "مجھے ایران کے ساتھ اپنی بات چیت شروع کرنے دیجیے۔ یہ ایک جابرانہ امر ہو گا کہ میں اُن کے ساتھ بیٹھنے سے قبل خود ہی اُن کے مواقف کو فرض کر لوں"۔

گروسی کا کہنا ہے کہ وہ ایران سمیت عمومی صورت میں معائنے کی کارروائیوں میں فیصلہ کن مگر منصفانہ رجحان رکھیں گے۔ گروسی نے باور کرایا کہ وہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی تفتیشی کارروائیاں انجام دینے والی ٹیم کے کام سے مطمئن ہیں۔