.

امریکا بہادر ایرانی عوام کی مدد اور حمایت جاری رکھے گا: ڈونلڈ ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایک ٹویٹ کہا ہےکہ ان کی حکومت بہادر ایرانی عوام کی تہران پر مسلط مذہبی رجیم سے آزادی کے لیے حمایت اور مدد جاری رکھے گی۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے بہادر عوام کی حمایت کرتا ہے جو اپنی آزادی کے لیے سڑکوں پراحتجاج کر رہے ہیں۔

اس سے قبل ٹرمپ نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ ایرانی رجیم اپنے ہی عوام کو طاقت کے ذریعے کچل کر ہلاک کررہا ہے۔ اپنے آئینی حقوق کے حصول کے لیے احتجاج کرنے والوں پر گولیاں چلائی جاتی ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ ایرانی عوام کے حقوق کی حمایت کے لیے ان کےساتھ کھڑی ہو۔

ٹرمپ نے مظاہرین پر ایرانی سیکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کی مذمت کی اور کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف نکلنے والے پرامن جلوسوں پر فائرنگ اور نہتے شہریوں کی ہلاکتیں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میں شامل ہیں۔

ٹرمپ نے لندن میں نیٹو کے اجلاس سے قبل نامہ نگاروں کو بتایا صرف احتجاج کرنے پر ایران میں بہت سے لوگ مار دیے گئے۔ یہ انتہائی خوفناک ہے۔

پٹرول کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے اعلان کے بعد 15 نومبر کو ایران میں مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ ایرانی حکومت نے اچانک تیل کی قیمتوں میں 200 فی صد اضافے کا اعلان کردیا تھا جس پرعوام آپے سے باہر ہوگئے اور احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر آگئے تھے۔

ٹرمپ نے نیٹو کے سربراہ اجلاس سے قبل لندن میں نامہ نگاروں سے کہا کہ اس وقت جب ہم بات کررہےہیں ایرانی حکومت ہزاروں مظاہرین کو ہلاک کرچکی ہے۔

اس وقت جب ہم یہ گفتگو کررہے ہیں تو ہزاروں افراد مارے جاچکے ہیں۔اسی لیے انھوں (ایرانیوں) نے انٹرنیٹ کو بھی بند کردیا ہے تاکہ لوگ یہ نہ دیکھ سکیں کہ ایران میں کیا ہورہا ہے۔‘‘

صدر ٹرمپ نے کہا:’’ یہ کوئی معمولی تعداد نہیں اور ہلاکتوں کی تو تھوڑی تعداد بھی بری ہے۔یہ بھاری تعداد ہے اور یہ واقعتاً بہت ہی بری بات ہے۔یہ ایک بہت خوف ناک چیز ہے اور دنیا کو اس کو دیکھنا چاہیے۔‘‘

انھوں نے اپنے فرانسیسی ہم منصب عمانوایل ماکروں کے نیٹو کے بارے میں ایک حالیہ تنقیدی بیان کو توہین آمیز قراردیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ نیٹو کی ’’دماغی موت‘‘ واقع ہوچکی ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ دیکھتے ہیں کہ فرانس کیسے نیٹو سے اپنا ناتا توڑتا ہے۔ اگرایسا ہوتا ہے تو یہ ایک حیرت انگیزامر ہوگا کیونکہ فرانس کو کسی اور ملک سے زیادہ تحفظ کی ضرورت ہے۔‘‘

انھوں نے کہا:’’ میں فرانسیسی صدر سے ملاقات کا منتظر ہوں اور انھیں یہ باور کراؤں گا کہ انھیں کسی بھی اور شخص سے زیادہ تحفظ کی ضرورت ہے مگر میں انھیں تعلق توڑتا ہوا دیکھ رہاہوں اس لیے مجھے کوئی زیادہ حیرت نہیں ہوئی ہے۔‘‘

صدر ٹرمپ اور ان کے نیٹو اتحادی لندن میں اس فوجی اتحاد کے سترویں یوم تاسیس کے موقع پر سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔نیٹو ممالک کے لیڈروں کے درمیان تنظیم کے مستقبل کے بارے میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں اور حالیہ دنوں میں فرانسیسی صدر اور ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کھل کر اس حوالے سے بیانات دیے ہیں۔