.

ایرانی عوام یورپ کے ایرانی رجیم سے ساز باز کو نہیں بھولیں گے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکا کی سابق خاتون سفیر نکی ہیلی نے ایران کے ساتھ تعاون پرمبنی یورپی پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی عوام یورپی ممالک کے ایرانی رجیم کے ساتھ تعاون کو نہیں بھولیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ٹویٹر پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں نکی ہیلی کا کہنا تھا کہ امریکا ایرانی رجیم کو کم زور کرنے کے لیے اس پر پابندیاں عاید کررہا ہے اور یورپی ممالک ان پابندیوں کو غیر موثر بنانے کے لیے تہران کی مدد کررہےہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ یورپی ممالک ایرانی عوام یا حکومت میں سے کسی ایک کا ساتھ دیں۔ انہوں نے یورپی ملکوں کو مشورہ دہا کہ وہ ایرانی رجیم کے مطالبات پر کان نہ دھریں۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم حکومت کے ذریعہ ان پر ڈھائے جانے والے مظالم، تشدد اور عذاب کو فراموش نہیں کریں گے اور نہ ہی وہ ان غیرملکی طاقتوں کو فراموش کریں گے جنھوں نے اس حکومت کو معاشی شعبے میں مدد کی ہے۔

سابق امریکی سفیر نے مصنف 'ایلی لک' کے ایک مضمون سے بعض اقتباسات بھی اپنی ٹویٹ میں پیش کیے۔ ان میں ایک اقتباس کا عنوان تھا کہ 'اب یورپ ایرانی اقتدار کو کیوں بچاتا ہے۔ اس وقت ایران کے لیے یورپی حمایت کا اعلان مشکوک ہے وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب ایرانی حکومت اپنے لوگوں کو خوفناک طریقے سے ہلاک کررہی ہے۔

نکی ہیلی کا کہنا تھا کہ گذشتہ ماہ ایران میں جو کچھ ہوا اس نے ایرانی رجیم کامکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا۔ پٹرولیم مصنوعات کی بھاری قیمتوں کے خلاف سڑکوں پر نکلنے والے نہتے لوگوں پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کرکے انہیں کچلنے کی کوشش کی گئی۔

سابق امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ایرانی اپوزیشن رہ نما میر حسین موسوی چند روزہ کریک ڈائون کے دوران دو سو سے زائد مظاہرین کی ہلاکتوں کی تصدیق کرچکے ہیں۔

درایں اثناء ریپبلکن سینیٹر مارکو روبیو نے ایران میں ناروے کے سفیر لارس نورڈرم کی اس ٹویٹ پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے یورپ اور ایران کے درمیان طے پانے والے'انسٹکس' سسٹم کی تعریف کی تھی۔ اس نظام کے ذریعے یورپی ممالک ایران کو امریکی پابندیوں سے بچانے کی کوشش کررہا ہے۔