.

سوڈان میں ایک لاکھ لوگ کس کسمپرسی سے زندگی گذار رہےہیں: ویڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کی جنوبی ریاست کردفان میں سرحد کے قریب تین کیمپوں میں رہنے والے قریبا ایک لاکھ لوگ انتہائی مشکل اور خطرناک حالات میں زندگی گذار رہے ہیں۔ جنوبی سوڈان کی سرحد پر قائم فامیر، اجوانق توک اور ایدا کیمپوں میں ایک لاکھ کے لگ بھگ لوگ مقیم ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک لاکھ پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے حکومت کی طرف سے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ یہ لوگ انتہائی کسمپرسی کی زندگی گذارنے پرمجبور ہیں۔ انہیں امدادی اداروں کی طرف سے کسی قسم کی امداد نہیں مل رہی اور نہ ہی ان کی اپنے گھروں کی طرف واپسی کی کوئی کوشش کی جا رہی ہے۔

انتہائی ناگفتہ بہ حالات کا سامنا کرنے والے بیشتر افراد جبال النوبہ سے نقل مکانی کرکے وہاں آئے،

جنگ سے متاثرہ خدیجہ ان ہزاروں پناہ گزینوں میں سے ایک ہے جسے نا کردہ گناہ کی پاداش میں یہ سزا دی گئی۔ بمباری کے نتیجے میں وہ ایک ٹانگ سے محروم ہوچکی ہے اور اس کے اہل خانہ کے بیشتر افراد بھی جنگ کی تباہ کاریوں سے متاثر ہوئے ہیں۔

ایدا پناہ گزین کیمپ جاو کے مقام پر قائم ہے اور یہ النوبہ پہاڑی سلسلے کا سب سے بڑا کیمپ ہے۔ یہاں پناہ لینے والوں کو وہاں سے بھی جبری بے دخلی اور اپنے لیے رزق کی تلاش جیسی مشکلات کا سامنا ہے۔

کیمپ کی ایک ذمہ دار خاتون شادیہ نے بتایا کہ کیمپ کی صورت حال ناقابل بیان ہے۔ بعض لوگ اپنی مشکلات کا اظہار کیمپ کی دیواروں پر لکھ کر کرتے ہیں۔وہ رضاکارانہ طورپر واپسی چاہتےہیں مگر انہیں ان کے ملک ہی میں غریب والوطن کردیا گیا ہے۔