.

فائز السراج اور ترکی کے درمیان معاہدہ ایک سازش ہے : لیبیائی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں (فیلڈ مارشل جنرل خلیفہ حفتر) قومی فوج کی جنرل کمان کے سرکاری ترجمان احمد المسماری نے باور کرایا ہے کہ " ترکی اور وفاق کی حکومت کے سربراہ فائز السراج کے درمیان حال ہی میں طے پانے والا معاہدہ ایک سازش ہے۔ یہ سازش لیبیا کو ایک ایسی انارکی میں دھکیل دیں گے جس سے ہم بے نیاز ہیں"۔ منگل کی شب ایک پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ "مذکورہ معاہدہ الاخوان المسلمین اور دیگر دہشت گرد جماعتوں کو لیبیا میں ترکی کی براہ راست امداد اور فوجی اڈے پیش کرے گا"۔

ترجمان کے مطابق لیبیا کی فوج کے سربراہ خلیفہ حفتر نے لیبیا کو ترکی کے اڈوں میں تبدیل کرنے کے حوالے سے انقرہ کی منصوبہ بندی پر روک لگانے کے سلسلے میں مصر اور یونان سمیت کئی ممالک کے کردار کو سراہا۔

المسماری نے زور دے کر کہا کہ فائز السراج کے دستخط کردہ سمجھوتے نے لیبیا کو یونان، قبرص اور برادر عرب ممالک کے ساتھ براہ تصادم کی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے .. ہم نہیں چاہتے کہ لیبیا کسی بھی پڑوسی ملک کے لیے پریشانی یا تشویش کا ذریعہ بنے۔

ترجمان نے عالمی برادری، عرب لیگ اور افریقی یونین سے مطالبہ کیا کہ اب وہ وفاق کی حکومت کی صدارتی کونسل کے خلاف لیبیا کے عوام کے ساتھ اپنی آواز ملائیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے لیبیا میں وفاق کی حکومت نے ترکی کے ساتھ عسکری اور بحری تعاون مضبوط بنانے اور عسکری تعلقات کی سپورٹ کے لیے کئی سمجھوتوں پر دستخط کیے۔ ان سمجھوتوں نے وسیع پیمانے پر تنازع اور داخلی تنقید کو جنم دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان سمجھوتوں سے انقرہ حکومت کے لیے راستہ کھل جائے گا کہ وہ لیبیا میں اپنی حلیف مسلح ملیشیاؤں کو مزید سپورٹ ارسال کرے اور لیبیا کے تنازع کو بھڑکائے۔