.

احتجاجی مظاہروں میں مارے گئےافراد کو ’’شہداء‘‘ قرار دیا جائے:علی خامنہ ای کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے رہبرِاعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے گذشتہ ماہ پیٹرول کی قیمت میں ہوشربا اضافے کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہروں میں مارے گئے افراد کو شہید قرار دینے اور ان کے خاندانوں کو معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے لیکن اس کی شرط یہ عاید کی ہے کہ ایسے ’’شہداء‘‘کسی قسم کی اشتعال انگیز کی مرتکب نہ پائے گئے ہوں۔

رہبراعلیٰ کی ویب سائٹ کے مطابق انھوں نے یہ حکم احتجاجی مظاہروں میں ہلاکتوں اور مالی نقصانات سے متعلق ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کی مرتب کردہ رپورٹ کو ملاحظہ کرنے کے بعد دیا ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ کونسل کی رپورٹ میں پیش کردہ سفارشات پر جلد سے جلد عمل درآمد کیا جائے۔

ایرانی حکومت نے 15 نومبر کو پیٹرول کی قیمت میں 50 سے 300 فی صد تک اچانک اضافہ کردیا تھا۔اس اقدام کے خلاف ملک بھر میں پُرتشدد ہنگامے شروع ہوگئے تھے اور یہ ایک سو شہروں اور قصبوں میں پھیل گئے تھے۔بعض شہروں میں نقاب پوش نوجوانوں نے پیٹرول اسٹیشنوں ، بنکوں اور دوسری سرکاری املاک کو نذر آتش کردیا تھا اور ان کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئی تھیں۔

ایران کے رہبرِاعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے قبل ازیں ایک تقریر میں ان مظاہروں کو ایک سازش کا شاخسانہ قرار دیا تھا اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس سازش میں امریکا ملوّث تھا لیکن ان کے بہ قول:’’ایرانی عوام نےایک بڑی گہری سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔اس پربہت زیادہ رقم اور کوششیں کام آئی ہیں۔‘‘

انھوں نے مظاہروں کو فرو کرنے میں نمایاں کردار پر پولیس ، پاسداران انقلاب اور باسیج ملیشیا کی تعریف کی تھی اور کہا تھا کہ ’’انھوں نے میدان میں اترکرایک مشکل فریضہ انجام دیا ہے۔‘‘

ایران کے سکیورٹی ایجنٹوں نے ان احتجاجی مظاہروں کے دوران میں امریکا کی مرکزی خفیہ ایجنسی (سی آئی اے) سے تعلق کے الزام میں آٹھ افراد کو گرفتار کیا تھا۔