ایرانی فورسز نے 1000سے زیادہ مظاہرین کو ہلاک کردیا: برائن ہُک کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا کے خصوصی نمایندہ برائے ایران برائن ہُک نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فورسز نے ملک میں وسط نومبر کے بعد پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک کردیا ہے۔

برائن ہُک نے محکمہ خارجہ میں جمعرات کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’اب کہ ایران سے سچائی باہرآرہی ہے تو یہ لگ رہا ہے کہ نظام نے مظاہروں کےآغاز کے بعد سے ایک ہزار سے زیادہ شہریوں کو ماردیا ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ امریکا نے ایران میں احتجاجی مظاہروں کے دوران پیش آئے تشدد کے واقعات میں سے ایک کی ویڈیو دیکھی ہے۔اس میں ایک سو سے زیادہ افراد کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا ہے۔

برائن ہُک کا کہناتھا کہ ہزاروں ایرانی زخمی ہوگئے ہیں اور کم سے کم سات ہزار پکڑ کرایرانی جیلوں میں بند کیا گیا ہے۔

ایرانی حکومت نے15نومبر کو پیٹرول کی قیمت میں 50 سے 300 فی صد تک اچانک اضافہ کردیا تھا۔اس اقدام کے خلاف ملک بھر میں پُرتشدد ہنگامے شروع ہوگئے تھے اور یہ ایک سو شہروں اور قصبوں میں پھیل گئے تھے۔بعض شہروں میں نقاب پوش نوجوانوں نے پیٹرول اسٹیشنوں ، بنکوں اور دوسری سرکاری املاک کو نذر آتش کردیا تھا اور ان کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئی تھیں۔

ایرانی حکومت نے ابھی تک ان مظاہروں میں ہلاکتوں کے کوئی سرکاری اعداد وشمار جاری نہیں کیے ہیں۔البتہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اس نے 208 مظاہرین کی ہلاکتوں کا ریکارڈ جمع کیا ہے۔

ایرانی حکام نے جلاوطن حزبِ اختلاف سے وابستہ ٹھگوں اور ایران کے غیرملکی دشمنوں پر بد امنی پھیلانے اور طوائف الملوکی کا الزام عاید کیا تھا۔ایران کے رہبرِاعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے ان مظاہروں کو ایک سازش کا شاخسانہ قرار دیا تھا اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس سازش میں امریکا ملوّث تھا لیکن ان کے بہ قول:’’ایرانی عوام نے اس سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔اس پربہت زیادہ رقم اور کوششیں کام آئی ہیں۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں