تئیس سال بعد سوڈان میں امریکی سفیر کی تعیناتی کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا نے بدھ کے روز کہا ہے وہ 23 سال کے بعد سوڈان میں سفیر مقرر کرنے کی تیاری کررہا ہے۔ امریکا کی طرف سے یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب سوڈان کے نئے وزیراعظم عبداللہ حمدوک واشنگٹن کا دورہ کررہے ہیں۔

امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے سوڈانی وزیر اعظم عبدالل حمدوک سے ملاقات کے بعد کہاکہ سوڈان اور امریکا 23 سال کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

بدھ کے روز امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکا اور سوڈان نے دو دہائیوں سے زیادہ عرصے میں پہلی بار سفیروں کے تبادلے کے ذریعے اپنے سفارتی تعلقات کی تجدید پراتفاق کیا ہے۔

سوڈانی وزیراعظم عبداللہ حمدوک نے اپنے دورہ امریکا کے دوران انتظامیہ کے عہدیداروں سے ملاقات کی جن میں وزیرخزانہ اسٹیفن منوچن اور امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی کے سربراہ مارک گرین شامل ہیں۔

پومپیو نے ایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ امریکی سوڈانی باہمی تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ سوڈان سویلین قیادت میں جمہوری عمل کی طرف بڑھنے کے ساتھ، آئین کی تیاری اور زبردست اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔

سوڈانی وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کے دورہ امریکا کا مقصد واشنگٹن کی حمایت کا حصول ہے۔ سابق معزول صدر عمر البشیر اور امریکا کے درمیان تعلقات سخت کشیدہ رہے ہیں۔

سوڈانی وزیراعظم نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سال ہال سال سے خرطوم پرعاید کردہ اقتصادی پابندیاں ختم کرے۔ امریکا نے بھی سوڈان پرعاید پابندیاں بہ تدریج ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

امریکی انتظامیہ کے عہدے داروں کا کہنا تھا کہ سوڈان دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکلنے کے لیے مثبت انداز میں آگے بڑھ رہا ہے لیکن اس نے ابھی تک تمام شرائط پوری نہیں کیں۔

دہشت گردنہ حملوں کے خوف سے امریکا نے سنہ 1995ء کے بعد سوڈان میں کوئی سفیر تعینات نہیں کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں