روس نے ایران کی یورینیم افزودگی کی سرگرمیوں پرمشترکہ تحقیقی منصوبہ معطل کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

روس کی سرکاری جوہری توانائی کمپنی نے ایران کے ساتھ ایک مشترکہ تحقیقی منصوبہ معطل کردیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے یہ فیصلہ ایران کی جانب سے یورینیم کو افزودہ کرنے کی سرگرمیوں کی بحالی کے بعد کیا ہے۔

روس کی سرکاری انتظام میں کام کرنے والی کمپنی ٹی وی ایل نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران نے فردو میں واقع تنصیب میں یورینیم کو افزودہ کرنے کی سرگرمیوں کو بحال کردیا ہے۔اس کے بعد اس تنصیب کا طبی مقاصد کی غرض سے تابکاری آئسوٹوپس کی تیاری کے لیے استعمال بالکل ناممکن ہو کر رہ گیا ہے۔

اس نے بیان میں واضح کیا ہے کہ یورینیم کی افزدوگی تیکنیکی طور پر طبی مقاصد کے لیے آئسو ٹوپس سے کوئی مطابقت نہیں رکھتی ہے۔

’’ایران کو کمپنی کے ساتھ کام کرنے کی صورت میں یورینیم کی افزودگی کے لیے سینٹری فیوجز کو توڑ کر الگ کرنے کی ضرورت ہوگی اور طبی منصوبے پر کام جاری رکھنے کے لیے کمرے کو پاک وصاف کرنا ہوگا۔‘‘ بیان میں مزید وضاحت کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ایران نے بڑی طاقتوں کے ساتھ جولائی 2015ء میں طے شدہ سمجھوتے کے تحت یورینیم کو افزودہ کرنے کا عمل روکنے سے اتفاق کیا تھا لیکن گذشتہ سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس سمجھوتے سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا اور نومبر میں اس کے خلاف سخت اقتصادی پابندی عاید کردی تھیں۔

اس کے ردعمل میں ایران نے یورینیم کی افزدوگی کی سرگرمیوں کو بحال کردیا تھا اوراب اس نے مرحلہ وار اس سمجھوتے کے تقاضوں سے انحراف کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں