مشرق وسطی میں 14 ہزار امریکی فوجی نہیں بھیج رہے : پینٹاگان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزارت دفاع (پینٹاگان) کی میڈیا ترجمان الیسا فرح کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ بے بنیاد ہے کہ امریکا مشرق وسطی میں 14 ہزار اضافی فوجی بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ٹویٹر پر اپنی نئی ٹویٹ میں ترجمان نے لکھا کہ "یہ بات واضح ہونی چاہیےکہ اس سلسلے میں سامنے آنے والی رپورٹ غلط ہے۔ امریکا اپنے 14 ہزار اضافی فوجی مشرق وسطی ہر گز نہیں بھیجے گا"۔

اس سے قبل امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" نے بتایا تھا کہ واشنگٹن ایرانی خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنے 14 ہزار فوجی مشرق وسطی بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔ بدھ کی شام اپنی رپورٹ میں اخبار کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ذمے داران ایرانی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لے درجنوں بحری جہاز بھیجنے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ خطے میں امریکی فوجیوں کو بھیجنے کا ایک منصوبہ موجود ہے جس کا مقصد امریکی پابندیوں کے جواب میں ایران کے کسی بھی ممکنہ رد عمل کو روکنا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی وزارت دفاع (پینٹاگان) کے ایک اعلی ذمے دار نے بدھ کے روز انکشاف کیا تھا کہ ایران کی جانب سے جلد کسی ممکنہ جارحیت کے اشارے مل رہے ہیں۔

پینٹاگان میں تیسرے سینئر ترین عہدے دار جون روڈ نے صحافیوں سے مزید کہا کہ امریکا کو ایران کی جانب سے ممکنہ رویے کے حوالے سے اندیشے ہیں۔ تاہم روڈ نے ان معلومات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں جن کی بنیاد پر یہ اندیشے قائم ہوئے ہیں۔

اس سے قبل امریکی نیوز نیٹ ورک CNN نے پینٹاگان اور امریکی انتظامیہ کے متعدد ذمے داران کے حوالے سے بتایا کہ اس طرح کی کئی انٹیلی جنس معلومات موجود ہیں کہ مشرق وسطی میں امریکی افواج اور اس کے مفادات کو ایران کی جانب سے ممکنہ خطرات کا سامنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں