آئندہ چند گھنٹوں میں عراقی ذمے دارارن پر امریکی پابندیاں عائد ہوں گی : ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ عراقی ذمے داران پر پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ، ان پابندیوں کا اعلان آئندہ چند گھنٹوں میں کر دیا جائے گا۔

یہ پیش رفت عراق میں بالخصوص جنوبی صوبوں میں عوامی احتجاج کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافے کے بعد سامنے آئی ہے۔ جنوبی صوبوں میں ایک دن کے اندر درجنوں مظاہرین اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے مطابق "ان کا ملک اپنا قانونی اختیار استعمال کرے گا تا کہ عراقیوں کی دولت لوٹنے والی بدعنوان شخصیات اور مظاہرہ کرنے والے شہریوں کو ہلاک اور زخمی کرنے والوں پر پابندیاں عائد کی جا سکیں"۔

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ کے معاون ڈیوڈ شنکر نے اُن پابندیوں کا عندیہ دیا تھا جو واشنگٹن کی جانب سے عراق میں "جابر عہدے داران" کے خلاف لگائی جا سکتی ہیں۔ شنکر نے مظاہرین کے خلاف طاقت کے خوف ناک اور شنیع استعمال کی مذمت کی۔

ادھر بغداد میں تحریر اسکوائر پر موجود طبی کارکنان کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے نامعلوم عناصر نے جمعرات کی صبح مظاہرین کے خلاف چاقو مارنے کی کارروائیاں کیں۔

دوسری جانب عراق کے صدر برہم صالح نے شام کے لیے امریکی ایلچی جیمز جیفری اور عراق میں امریکی سفیر میتھیو ٹولر سے ملاقات کی۔ اس دوران خطے کی تازہ صورت حال اور عراق کے امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اصلاحات کے طریقہ کار پر بات چیت ہوئی۔

عراق میں نگراں حکومت کے سربراہ عادل عبدالمہدی نے بھی امریکی ایلچی جیمز جیفری اور دیگر ذمے داران کے ساتھ ملاقات کی۔ ملاقات میں بین الاقوامی اتحادی فورسز کے کمانڈر پیٹرک وائٹ اور مشرق وسطی کے امور کے لیے امریکی نائب وزیر دفاع کرس مائر بھی موجود تھے۔ اس دوران داعش تنظیم کی باقیات سے نمٹنے کے لیے تعاون کی صورتوں اور عراقی فوج کے لیے بین الاقوامی اتحادی فورسز کی سپورٹ پر تبادلہ خیال ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں