.

ایرانی فوجی نے تین پولیس اہلکاروں کو فائرنگ کرکے موت کی نیند سلا دیا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے جنوب میں ایک فوجی نے تین پولیس اہلکاروں کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی فارس نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ یہ واقعہ ساحلی شہر بندر لنگہ میں واقع ایک پولیس تھانے میں پیش آیا ہے۔ یہ شہر دارالحکومت تہران سے قریباً ایک ہزار کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔

فارس کا کہنا ہے کہ پولیس نے اس ملزم فوجی کو فوری طور پر گرفتار کر لیا ہے لیکن اس ایجنسی نے یہ نہیں بتایا ہے کہ اس فوجی نے پولیس اہلکاروں پر کیوں فائرنگ کی ہے اور اس واقعے کا محرک کیا چیز بنی ہے؟البتہ اس نے صرف یہ کہا ہے کہ پولیس واقعے کی تحقیقات کررہی ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی میڈیا گاہے گاہے اس طرح کے واقعات کی اطلاع دیتا رہتا ہے۔ 2016ء میں ایران کے جنوب ہی میں ایک فوجی نے اپنے تین ساتھیوں کو گولیاں مار کر ہلاک کرنے کے بعد خودکشی کر لی تھی۔

ماہرین اس طرح کے واقعات کو لازمی فوجی خدمات انجام دینے کی پابندی پر نوجوان فوجیوں میں پائے جانے والے نفسیاتی دباؤ اور غیظ وغضب کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔ ایران میں 19 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کو لازمی طور پر دوسال تک فوج میں خدمات انجام دینا پڑتی ہیں۔اس پابندی کی وجہ سے بہت سے نوجوان نفسیاتی عوارض کا شکار ہوجاتے ہیں اور ان میں بعض مشتعل ہوکر سنگین جرائم کے مرتکب ہوجاتے ہیں۔