.

کیا داؤد اوغلو نے اپنی سیاسی جماعت کے اعلان کی تیاری مکمل کر لی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے ذرائع ابلاغ کے مطابق سابق وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے اپنی نئی سیاسی جماعت متعارف کرانے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ اوغلو اپنے مشیروں کے ساتھ مل کر جماعت کے داخلی نظام اور سلوگن کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ نئی جماعت کا اعلان آئندہ ہفتے ہو جائے گا۔

ترک ذرائع کے مطابق داؤد اوغلو اپنی جماعت کا آغاز 130 بانی ارکان کے ساتھ کریں گے۔ ان ارکان کو ترکی کے 81 صوبوں سے چُنا گیا ہے۔ چناؤ کے عمل کی نگرانی اوغلو نے ذاتی طور پر خود کی۔ ارکان کی اکثریت کا تعلق حکمراں جماعت سے نہیں بلکہ دیگر اہم جماعتوں سے ہے۔ ان کے علاوہ اقلیتی نمائندے بھی شامل ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ذرائع نے توقع ظاہر کی ہے کہ جماعت کے ارکان کے نام اور اس کا سلوگن آئندہ ہفتے کے آغاز پر سامنے آ جائے گا۔

ترکی کی وزارت داخلہ نے بدھ کے روز اس بات کی تردید کی تھی کہ احمد داؤد اوغلو اور علی باباجان نے اپنی نئی جماعت بنانے کے حوالے سے کوئی درخواست پیش کی ہے۔ یہ تردید نائب وزیر داخلہ اسماعیل چاتاکلے کی زبانی وزارت داخلہ کی ماہانہ پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے سامنے آئی۔

سابق وزیراعظم احمد داؤد اوغلو رواں سال ستمبر میں حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کی رکنیت سے مستعفی ہو گئے تھے۔ اس سے قبل پارٹی کی مجلس عاملہ نے اوغلو اور 3 دیگر ارکان کو پارٹی کی ڈسپلنری کمیٹی کے سامنے پیش کیا تھا تا کہ ان افراد کو علاحدہ کرنے کا حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔ داؤد اوغلو کی قریبی شخصیات نے اس موقع پر پارٹی کے فیصلے پر شدید تنقید کی تھی۔

داؤد اوغلو نے اپنے مستعفی ہونے کے بیان میں باور کرایا تھا کہ وہ ایک نئی جماعت قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اوغلو کا کہنا تھا کہ اب "ان کی گردن پر تاریخی ذمے داری عائد ہو چکی ہے"۔