ایران پرآخری حد تک دباؤ کی پالیسی ثمر آور ثابت ہوئی:امریکی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی انتظامیہ کے ایک سینیر عہدیدار نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کار آمد ثابت ہوئی ہے۔

ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ اس کے متنازع ایٹمی پروگرام ، زیر حراست افراد کے معاملے پر بات چیت کرنے ، پڑوسی ممالک کے امور میں ایرانی مداخلت اور میزائل پروگرام پر بغیر کسی پیشگی شرط کے ایرانی قیادت کے ساتھ مذاکرات کی پیش کش کی ہے۔

امریکی عہدیدار کی طرف سے یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایران میں قید ایک امریکی زیو وانگ' کی رہائی کی اطلاعات ہیں۔

ایران اور امریکا نے ہفتے کے روز قیدیوں کا تبادلہ کیا گیا۔ پرنسٹن یونیورسٹی ایک طالب علم کی رہائی کے بدلے میں امریکا میں زیرحراست ایک ایرانی سائنسدان کو رہا کیا گیا ہے۔

امریکی عہدیدار نے کہا کہ امریکا نے ایرانی قید مسعود سلیمانی کے خلاف الزامات ساقط کردیے ہیں۔

امریکی عہدیدار کا خیال تھا کہ وانگ کو غیر منصفانہ طور پر حراست میں لیا گیا۔ ایران میں اس پر جاسوسی کا الزام لگایا گیا لیکن وہ جاسوس نہیں تھا اور نہ اس اس طرح کی کسی دوسری گرمی میں شامل رہا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سوئس حکام نے خاص طور پر گذشتہ چار ہفتوں کے دوران زیر حراست وانگ کو رہا کرنے کے لیے بہت محنت کی ہے۔

امریکی عہدیدار نے امید ظاہر کی ہے کہ وانگ کی رہائی سے ایرانیوں کو اغوا کی پالیسی کو روکنے کی ضرورت کو سمجھنے میں مدد ملے گی کیونکہ یہ ایران کی ایک ناکامی ثابت ہوئی ہے۔اس سے باقی زیر حراست افراد کی رہائی کی راہ ہموار ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں