بھارت :دارالحکومت نئی دہلی میں فیکٹری میں آتش زدگی ،43 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک فیکٹری میں آگ لگنے سے تینتالیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

بھارتی پولیس کے مطابق اتوار کو علی الصباح دہلی شہر کے قدیم حصے میں رانی جھانسی روڈ پر واقع صدر بازار میں اسکول بستے بنانے والی فیکٹری میں آگ لگی تھی۔نئی دہلی کے ڈپٹی چیف فائر آفیسر سنیل چودھری نے بتایا ہے کہ ’’ہم نے آتش زدگی سے متاثرہ فیکٹری سے کم سے کم پچاس افراد کو نکالا ہے۔‘‘

انھوں نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ یہ تمام مزدور اور فیکٹری ورکرتھے اور فیکٹری کی اس چار یا پانچ منزلہ عمارت ہی میں سو رہے تھے۔انھوں نے مزید بتایا ہے کہ فیکٹری میں لگی آگ پر قابو پالیا گیا ہے لیکن امدادی سرگرمیاں جاری تھیں۔

دہلی کے ایک سینیر افسر کے بہ قول اس کے بعد مزید آٹھ یا نو افراد کو فیکٹری سے نکالا گیا ہے۔اس طرح کل اٹھاون افراد کو نکالا گیا ہے۔

صدر بازار کی تنگ گلیوں اورتاریکی کی وجہ سے آگ بجھانے والے عملہ کو اپنی امدادی سرگرمیوں میں دشواری پیش آئی ہے اور فیکٹری میں بھی روشنی کا خاطر خواہ انتظام نہیں تھا۔

مقامی نیوز چینلوں نے آگ بجھانے والے عملہ کے امدادی رضاکاروں کی فوٹیج نشر کی ہے۔اس میں وہ متاثرہ فیکٹری سے نکالے گئے افراد کو تنگ گلیوں سے گزارتے ہوئے ایمبولینس گاڑیوں کی جانب لے جارہے ہیں۔

حکام کے مطابق فیکٹری کی عمارت اسکول بستیوں اور پیک کرنے والے سامان سے بھری ہوئی تھی لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ فی الوقت یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے کہ یہ آگ کیسے لگی ہے۔

دہلی کے شمالی ضلع کی ڈپٹی پولیس کمشنر مونیکا بھردواج نے آتش زدگی کے اس واقعے میں تینتالیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ سولہ افراد کو علاج کے لیے مقامی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ محکمہ آگ نے اپنا امدادی کام مکمل کر لیا ہے لیکن ہم ابھی تک یہ نہیں جانتے کہ یہ آگ کیسے لگی تھی لیکن یہ ضرور جانتے ہیں کہ اس نے پلاسٹک کے پیک والے پاؤچز اور دوسرے مواد کی وجہ سے زور پکڑ لیا تھا اور آناً فاناً فیکٹری میں پھیل گئی تھی۔

واضح رہے کہ بھارت کے بڑے شہروں کے قدیم علاقوں میں بہت سی فیکٹریاں اور چھوٹے مینوفیکچرنگ یونٹ قائم ہیں۔ان علاقوں میں اراضی کی قیمت میں دوسرے علاقوں کی نسبت کم ہوتی ہے۔اس لیے لوگوں نے وہاں سے فیکٹریاں شہریوں سے باہر منتقل نہیں کی ہیں۔

ان فیکٹریوں میں کام کرنے والے زیادہ تر مزدور ملک کے دور درازعلاقوں سے تعلق رکھتے ہیں،اس لیے وہ اپنا خرچ بچانے کے لیے بالعموم فیکٹریوں کے اندر ہی یا کام کرنے کی جگہوں ہی پر رات کو سوتے ہیں۔حکام کے مطابق اس آتش زدگی کے وقت بہت سے لوگ فیکٹری میں سورہے تھے اور ان میں بیشتر کی موت دم گھٹنے سے ہوئی ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دہلی کی اناج منڈی میں واقع فیکٹری میں آتش زدگی کو خوف ناک قرار دیا ہے اور اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے ایک ٹویٹ میں زخمیوں کی فوری صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔ ہے اور ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’’حکام جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور وہ تمام ممکنہ امداد مہیا کررہے ہیں۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں