عراق میں مظاہرین پر دوبارہ خُونِیں حملے ہوسکتے ہیں: امریکا کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومیو نے خبر دار کیا ہے کہ عراق میں پرامن مظاہرین پر دوبارہ قاتلانہ حملوں کا خدشہ ہے۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ 'ٹویٹر' پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں امریکی وزیر خارجہ نے کہاکہ ہماری نظر سے ایسی نئی رپورٹس گزری ہیں جن میں بغداد میں عراقی مظاہرین پر پرتشدد حملوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔۔

مائیک پومپیو نے عراقی قیادت اور حکومت پر زور دیا کہ وہ مظاہرین پر حملوں میں ملوث اہلکاروں کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف سخت کارروائی میں عمل لائیں۔

درایں اثناء عراقی پارلیمنٹ کے رکن اور پارلیمان کی سربراہی کمیٹی کے سربراہ حسن کریم الکعبی نے سوموار کو مقامی وقت کے مطابق ایک بجے ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ اس اجلاس میں عسکری قیادت کو بھی بلایا گیا ہے تاکہ مظاہرین پرحملوں ، بغداد اور السنک پل پر نامعلوم مسلح افراد کی طرف سےمظاہرین پر فائرنگ کے معاملے پر بحث کی جاسکے۔

بغداد میں امریکی سفارت خانے نے جمعہ کے روز پرامن مظاہرین پرحملوں کی شدید مذمت کی ہے اور انھیں خوفناک قرار دیا۔سفارت خانے کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ ملک میں کہیں بھی پرامن جلوسوں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ شہریوں کو کسی خطرے اور تکلیف کے بغیر اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہے۔

عراقی صدر برہم صالح نے جمعہ کے روز مظاہرین پرحملوں کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔عراق کے ایوان صدر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مظاہرین پرحملوں میں ملوث مجرم مافیا آئین اور قانون کے دائرے سے خارج ہے اور اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائےگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں