امریکا کی مشرقِ وسطیٰ سے عدم تعلقی سے ایران اور روس کو فائدہ پہنچے گا: ڈک چینی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا کے سابق نائب صدر ڈِک چینی نے خبردارکیا ہے کہ امریکا کی مشرقِ اوسط سے لاتعلقی سے ایران اور روس کو فائدہ پہنچے گا۔

وہ سوموار کو دبئی میں منعقدہ عرب حکمتِ عملی فورم میں گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شام سے فوج کے انخلا کے فیصلے سمیت مختلف پالیسیوں کے بارے میں اظہارخیال کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’روس ہمیشہ سے طاقت کے خلا کو پُر کرنے کے لیے تیار رہا ہے۔شام کے شمالی علاقے میں ایسے ہی ہوا ہے۔جونہی امریکی فوجیوں کا وہاں سے انخلا ہوا تو روس نے اس خلا کو پورا کرلیا ہے اور وہاں اپنے فوجی بھیج دیے ہیں۔‘‘

ڈِک چینی کے بہ قول:’’اس بنتی کہانی کا خلاصہ یہ بیان کیا جا سکتا ہےکہ کوئی بھی شخص اس کو ایک اچھے لمحے کے طور پر یاد نہیں کرے گا۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’القاعدہ اور داعش ایسے انتہا پسند گروپوں سے درپیش چیلنجز سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر کوئی عملی اقدام نہیں کیا جاتا تواس سے اقدام کرنے سے زیادہ سنگین خطرات اورمضمرات ہوسکتے ہیں۔‘‘

ڈِک چینی نے کہا کہ’’وسیع ترمشرقِ وسطیٰ میں بعض تخریبی قوتیں کام کررہی ہیں اور باہر کی دنیا سے بھی پریشان کن اثرونفوذ جاری ہے۔لاتعلقی دراصل سب اختیار ان(روس اور ایران) کے حوالے کرنا ہے۔‘‘

تاہم انھوں نے صدر ٹرمپ کے ایران سے 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے سے انخلا کے فیصلے کو سراہا اور کہا کہ ’’تہران میں موجود ملّا جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ انھوں نے نیٹو کو تاریخ میں سب سے مشکل اتحاد قرار دیا ہے۔

سابق امریکی نائب صدر نے کہا’’یہ بعد از جنگ نظام اتنا بنیادی ہے کہ اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ سال بہ سال کون سی سیاسی جماعتیں اقتدار میں رہی ہیں۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں