'فلوریڈا حملے میں ملوث سعودی اہلکار نے اسلحہ قانونی طریقے سے خریدا'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی تحقیقاتی ادارے 'ایف بی آئی' کی تفتیشی ٹیم کے سربراہ نے اتوار کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ سعودی فضائیہ کے ایک افسر نے جمعہ کے فلوریڈا میں ایک فوجی اڈے پر تین امریکی فوجیوں کو ہلاک اور 8 کو زخمی کرنے کی کارروائی اس کا ذاتی فعل تھا جس میں کسی دوسرے گروپ کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 'ایف بی آئی' کی تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ راچل روزاس نے جیکسن ویل میں ایف بی آئی کے دفتر میں بتایا کہ فائرنگ کے لیے سعودی اہلکار نے نوملی میٹردھانے والے گلوک 45 پستول کا استعمال کیا تھا۔ اس نے یہ پستول قانونی طور پر خریدا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ دفترفائرنگ کے اس واقعے کو اس نوعیت کے دیگر واقعات کے مطابق ہی ڈیل کرتا ہے۔ اگرچہ یہ واقعہ دہشت گردی کی کارروائی ہے مگریہ ایک شخص کا انفرادی فعل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم تحمل اور صبر کے ساتھ اس معاملے کی تہہ تک جانا چاہتے ہیں۔ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے تفتیشی ٹیم نے 80 خصوصی افسران ، 100 ساتھی معاونین ،نیوی کے درجنوں تفتیشی کاروں اور متعدد دیگر وفاقی ایجنسیوں کو شامل کیا گیا ہے۔

ایف بی آئی نے شوٹر کی شناخت 21 سالہ لیفٹیننٹ محمد سعید الشامرانی کے نام سے کی ہے۔

روزاس نے بتایا کہ اس فائرنگ کرنے والے سعودی اہلکار کے پاس 33 گولیاں تھیں جو اس نے فلوریڈا سے قانونی طریقے سے خرید کی تھیں۔

امریکی قوانین کے مطابق غیر ملکی کو جوامریکا جاتے ہیں اور امیگرنٹ ویزا کے علاوہ ویزا رکھتے ہیں شرائط پوری ہونے کی صورت میں شکار کے لیے اسلحہ خرید سکتے ہیں۔

الشامرانی امریکی بحریہ کے ساتھ ایک تربیتی پروگرام میں شامل تھا کو اس وقت اس اڈے پر تھا۔

روزاس نے کہا کہ تربیت میں شریک اس کے ساتھی امریکی براہ راست امریکی تفتیش کاروں سے بات کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اڈہ نہ چھوڑںے کے سعودی حکومت کے فیصلے کے پابند ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ اس واقعے کی تحقیقات میں سعودی عرب کی طرف سے فراہم کردہ تعاون قابل تحسین ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکا کو فلوریڈا واقعے کی تحقیقات میں تعاون کی پیش کش کی ہے.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں