.

ایردوآن کا ترک فوج بھیجنے کا عندیہ ، لیبی حلقوں میں غیظ و غضب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے لیبیا میں اپنے فوجی بھیجنے کا عندیہ دیا ہے۔ان کے اس بیان نے لیبیا میں وسیع پیمانے پر غصے کی لہر دوڑا دی۔ ترکی کے اس موقف کو لیبیا کے امور میں مداخلت قرار دیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی لیبیا پر ترکی کے حملے اور انقرہ کی جانب سے لیبیا کی خود مختاری پر اثر انداز ہونے کے خلاف مظاہروں کی دعوت بھی دی گئی ہے۔

ایردوآن نے باور کرایا تھا کہ اگر طرابلس میں وفاق کی حکومت نے درخواست کی تو ان کا ملک اپنے فوجیوں کو لیبیا بھیجنے کے لیے تیار ہے۔ ترکی کے صدر کے مطابق وہ اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین کے ساتھ بات چیت میں ماسکو کی جانب سے لیبیا میں خلیفہ حفتر کے زیر قیادت قومی فوج کی سپورٹ کا معاملہ زیر بحث لائیں گے۔

لیبیا میں وفاق کی حکومت کے ساتھ انقرہ کے معاہدے پر یورپی اور عرب ممالک کی سخت تنقید کے باوجود ایردوآن نے سرکاری ٹی وی کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ترکی نے بین الاقوامی قانون کے تحت اپنا حق استعمال کرتے ہوئے لیبیا کے ساتھ بحری مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ ترکی اور لیبیا اب بحیرہ روم کے مشرق میں وسائل کی تلاش کی مشترکہ کارروائیاں انجام دے سکتے ہیں۔

لیبیا کے حلقوں نے انقرہ کی جانب سے لیبیا میں عسکری مداخلت اور لیبیا کے کھاتے میں بحیرہ روم میں انقرہ کی توسیع کی کوشش پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔ لیبیا اور ترکی کے درمیان سمجھوتا مبہم ہے اور ابھی تک اس کی تفصیلات کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ لیبیا کی قومی تنظیموں نے ترکی کے صدر کے بیان میں اپنے فوجیوں کو لیبیا بھیجنے کا عندیہ دینے کی مذمت کی ہے۔

ادھر لیبیا کے ایک سیاسی تجزیہ کار وائل البکری کا کہنا ہے کہ ایردوآن ان دنوں لیبیا میں جو کچھ کر رہے ہیں ، اس کا مقصد فائز السراج کی حکومت کو علاقائی اور بین الاقوامی تنازع میں مشغول کرنا ہے۔ اسی طرح جیسے ایردوآن نے سوچی اور آستانا میں ہونے والے شامی مذاکرات میں النصرہ فرنٹ اور ہیئۃ تحریر الشام کو استعمال کیا۔

البکری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایردوآن اس وقت جو کچھ بھی کر رہے ہیں وہ ہوا میں غبارے چھوڑنے سے زیادہ کچھ نہیں۔ ایردوآن اپنے اعلان کے اثرات کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ ترکی کے صدر کو نیٹو اتحاد کے لڑائی کے اصول و ضوابط کا پوری طرح ادراک ہے اور وہ جانتے ہیں کہ اُن کا لیبیا آنے کا مطلب "لیبیا اور ترکی کے درمیان ایک بڑے معرکے کا دروازہ کھولنا" ہو گا۔

البکری نے واضح کیا کہ ایردوآن نے کئی ماہ سے سیکورٹی اور عسکری تعاون کے نام پر لیبیا میں عملی مداخلت شروع کر رکھی ہے تاہم وہ زمینی طور پر فوجی مداخلت کی مہم جوئی ہر گز نہیں کریں گے۔ یہ اقدام بڑی طاقتوں بالخصوص یورپی یونین کو انقرہ کو سزا دینے پر مجبور کر دے گا۔ لیبیا میں اس نوعیت کی مداخلت خطے میں زور دار دھماکا ہونے کے مترادف ہو گی۔

دوسری جانب ترکی کے امور سے متعلق خصوصی صحافی اور لکھاری یوسف الشریف کہا کہنا ہے کہ ایردوآن کی جانب سے اپنے فوجیوں کو لیبیا بھیجنے کے امکان کا اعلان محض "زبان کا پھسل جانا" نہیں ہے۔ یہ بات درست ہے کہ لیبیا میں کوئی آئینی حکومت موجود نہیں جس کے پاس غیر ملکی افواج کو بلانے کے اختیارات ہوں ،،، مگر ایردوآن بحیرہ روم کے جنوب میں ایک ایسا اڈہ چاہتے ہیں جس کے ذریعے وہ یورپ کو پریشان کر سکیں اور روس کے ساتھ مذاکرات میں سودے بازی کر سکیں۔

اس سلسلے میں سیاسی کارکن سراج التاوزرغی نے ایردوآن کی جانب سے اپنی فورسز کو لیبیا بھیجنے کے بیان کو "خود کش" اقدام قرار دیا۔ اس لیے کہ ایردوآن جانتے ہیں کہ عالمی برادری لیبیا میں وفاق کی فورسز کے زیر انتظام مسلح ملیشیاؤں کی معاونت کے لیے غیر ملکی افواج کو لیبیا میں داخل ہونے کی اجازت ہر گز نہیں دے گی۔ ایردوآن یہ بھی جانتے ہیں کہ ترک فوج لیبیا میں داخل ہو کر خلیفہ حفتر کے زیر قیادت قومی فوج کے ساتھ براہ راست مقابلے پر آ جائے گی۔

التاورغی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ لیبیا کے عوام اس طرح کے بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنے اور لیبیا میں ترکی منصوبے کو خاک میں ملانے کے لیے مکمل طور پر متحد ہے۔ لیبیا کے لوگ اپنے ملک میں داخل ہونے والے کسی بھی غیر ملکی دشمن سے نمٹنے کے واسطے ہتھیار اٹھانے کو تیار ہیں۔