.

جی سی سی کے کسی رکن ملک پر حملہ تمام کونسل پر متصور ہوگا:سیکریٹری جنرل

علاقائی سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے رکن ممالک کے درمیان فوجی اور سکیورٹی تعاون ناگزیر ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل عبداللطیف الزیانی نے کہا ہے کہ کسی رکن ملک کے خلاف جارحیت تمام کونسل پر حملہ متصور ہوگا۔

وہ سعودی دارالحکومت الریاض میں جی سی سی کی چالیسویں سربراہ کانفرنس کے اختتامی اجلاس پر تقریر کررہے تھے۔انھوں نے علاقائی سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے رکن ممالک کے درمیان فوجی اور سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ کونسل کے تحت 2025ء تک مالیاتی اور مانیٹری یونٹ قائم کیا جانا چاہیے۔

سیکریٹری جنرل نے کہا کہ جی سی سی کا بڑا مقصد رکن ممالک کے درمیان اتحاد اور تعاون کا فروغ ہے۔انھوں نے کونسل کے رکن ممالک پر زوردیا کہ وہ کسی بھی فوجی خطرے سے نمٹنے کے لیے دوست ممالک کے ساتھ مل کر کام کریں۔

سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے سیکریٹری جنرل کی اس تقریر کے بعد جی سی سی کے سربراہ اجلاس کے باضابطہ خاتمے کا اعلان کیا ہے۔

امیرِ کویت شیخ صباح الاحمد الصباح نے سربراہ کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کی کارروائی کے دوران میں مجموعی ماحول مثبت رہا ہے اور رکن ممالک کانفرنس میں کیے گئے مثبت اور تعمیری اقدامات سے مطمئن ہیں۔

قبل ازیں کانفرنس کے میزبان شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے خطے میں ایرانی نظام کے جارحانہ کردار سے نمٹنے کے لیے خلیجی ممالک میں اتحاد کی ضرورت پر زوردیا۔انھوں نے کہا کہ ’’ایرانی رجیم نے خطے میں جارحانہ پالیسیاں جاری رکھی ہوئی ہیں جن سے ہمسایہ ممالک کے استحکام کو نقصان پہنچتا ہے۔‘‘

شاہ سلمان نے کہاکہ ’’جی سی سی نے اپنے قیام کے بعد سے خطے کو درپیش ہونے والے کئی ایک بحرانوں پر قابو پایا ہے۔‘‘انھوں نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ توانائی کی رسد اور محفوظ بین الاقوامی جہاز رانی اوراس کی آزادانہ حمل و نقل کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے۔